جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کس بات پر معافی مانگیں، معافی تو ہو مانگیں جنہوں نے لشکر بنانے کا کہا ہے۔
صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے اس سوال پر کہ کیا مولانا فضل الرحمان پر بھی ایف آئی آر ہوگی، جواب میں کامران مرتضیٰ نے سوال کیا کہ مولانا فضل الرحمان نے ایسی کونسی بات کی جس پر معافی کا مطالبہ کیا جائے؟۔
انہوں نے کہاکہ معافی کا مطالبہ تو اس بات پر کیا جانا چاہیے کہ اگر کوئی یہ کہے کہ آپ خیبرپختونخوا میں متوازی لشکر بنا لیں اور لوگوں کا خود مقابلہ کریں معافی تو ان کو مانگنی چاہیے نہ کہ مولانا کو۔
جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جو کچھ بلوچستان اور خیبر پختونخوامیں ہو رہا ہے، اس کے اوپر معافی مانگنی چاہیے کہ گورننس کا بیڑہ غرق ہوگیا ہے۔
جے یو آئی سینیٹر نے کہا کہ مولانا جب پنجاب میں جا کر یہ بات کہتے ہیں کہ میرے صوبے میں اور بلوچستان میں حالات اس حد تک چلے گئے اور خراب ہوگئے ہیں اور ہمیں یہ کہا جا رہا ہے ہمیں اگر ڈائریکٹ نہیں کہا تو کسی اور کو یہ ڈائریکٹ کہا جا رہا ہے کہ آپ ان کے مقابلے کے لیے لشکر تشکیل دیں، تو کیا یہ کہا جانا مناسب ہے۔
معافی کس کو مانگنی چاہیے؟
جنہوں نے جمیعت سے کہا ہے کہ آپ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مسلح لشکر بنائیں، انکو معافی مانگنی چاہیے
جنہوں نے جمعیۃ سے ان ڈاریکٹ کہا ہے کہ آپ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مسلح لشکر بنائیں، ان کو معافی مانگنی چاہیے۔۔
سنیٹر کامران مرتضی pic.twitter.com/XCfSXRtPCq
— Kamran Murtaza (@KamranM69045926) July 14, 2026
کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ اس بات پر مولانا کو معافی مانگنی چاہیے یا ان لوگوں کو معافی مانگنی چاہیے جنہوں نے یہ حرکت کی۔ ان سے سوال کیا گیا کہ فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ وہ مولانا کے خلاف ایف آر درج کرائیں گے اس پر سینیٹر کامران مرتضی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ فیاض الحسن چوہان کو آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی جانتا ہوں۔
جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا ایک متنازع خطاب مین اسٹریم اور سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے جس پر اہم حکومتی اور سیاسی رہنما کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔
وزیردفاع خواجہ آصف نے ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں کہا کہ “فوجی جوانوں کی وطن کے لیے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے۔”
انہوں نے کہا کہ کوئی شخص محض تنخواہ کے لیے اپنی جان نہیں دیتا۔ جان کی قربانی کے پیچھے کسی نظریے، عقیدے، فرض اور وطن سے گہری وابستگی ہوتی ہے۔ آپ حالات و واقعات یا طریقہ کار سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر اس نظریے، وابستگی، محبت اور قربانی کی توہین نہیں کر سکتے۔”
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے امیر جے یو آئی کے بیان کو اخلاق کے تقاضوں اور اسلامی تعلیمات سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا کہ “شہادت کا مقام کسی دنیاوی معاوضے سے کہیں بلند ہے، تنخواہ خدمت کا معاوضہ ہو سکتی ہے، لیکن جان کا نذرانہ کبھی کسی مالی قیمت میں نہیں تولا جا سکتا۔”
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ وطن پر جان نچھاور کرنے والے شہدا پر کسی بھی سیاسی گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ ان کی قربانیوں کا کوئی مول نہیں ہو سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ شہداء کے عظیم ورثا جو اپنے پیاروں کو گھر سے رخصت کرتے ہوئے ان کی شہادت کی دعائیں کرتے ہیں، ان کے حوصلوں کو سلام ہے۔ ایسے دلیر اور بہادر سپوت قوم کا سرمایہ ہیں۔
تنقید کرنے والوں میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری بھی شامل تھے جنہوں نے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں کہا کہ ہم جوانوں اور افسروں کی لازوال قربانیوں کے باعث سکون کی نیند سوتے ہیں جو ہر محاذ پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کا بیان شہداء کی توہین قرار، سیاسی قیادت نے معافی کا مطالبہ کر دیا
مولانا کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہداء کے لہو سے لکھی گئی تاریخ کسی سیاسی بیان، طنز یا تمسخر سے نہ مٹ سکتی ہے اور نہ ہی ان عظیم قربانیوں کی قدر کم کی جا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز عون چوہدری، استحکام پاکستان پارٹی کے ترجمان فیاض الحسن چوہان، اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی مولانا مولانا فضل الرحمان کے شہدا سے متعلق بیان پر افسوس کا اظہار کیا۔
