امریکی جنگی طیاروں نے ایران کے مختلف شہروں پر بمباری کی ہے جبکہ ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں پر جوابی حملے کئے ہیں۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کی ایک اور لہر مکمل کر لی ہے جس میں آبنائے ہرمز کے قریب اور ایرانی ساحلی علاقوں میں درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹکام کے مطابق امریکی لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جہازوں نے 7 گھنٹے جاری رہنے والی کارروائی میں ایرانی میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری صلاحیتوں اور ساحلی دفاعی تنصیبات پر درست نشانے لگائے۔
امریکا کے ایران پر حملے، چابہار اور بندر عباس سمیت ساحلی علاقوں میں دھماکے
سینٹکام کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن ایران کے خلاف بحری اور ساحلی ناکہ بندی کی بحالی کے ساتھ کیا گیا ، ان حملوں کا مقصد تجارتی جہازوں اور عملے کو ایران سے لاحق خطرات میں کمی لانا تھا۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آج صبح بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ بیس پر کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، بحری معاونت کے انتظامی مرکز، گوداموں اور ایندھن کے ٹینکوں کو تباہ کر دیا ہے۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ کویت کے علاقے مینا عبداللہ میں واقع امریکی فوج کے مرکزی لاجسٹک اور سپورٹ مرکز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ آپریشن”نصر 2″کی چوتھی لہر کے دوران اس تنصیب کو آگ لگا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔
ایران کے جزیرہ قشم اور بندر عباس میں 6 دھماکے
کویت کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں میں ایک بحری جہاز نشانہ بنا جس میں 4 فوجی زخمی ہوئے۔
کویتی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ منگل کے حملوں میں ایک بیلسٹک میزائل، پانچ کروز میزائل اور 33 ڈرونز کو روکا گیا ہے۔ ان حملوں میں کئی اہم اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور گرنے والے ملبے سے نقصان پہنچا ہے۔
