اسلام آباد: پاکستان نے ملکی تاریخ میں پہلی بار مقررہ مدت سے قبل 4 ہزار 722 ارب روپے کا قرض واپس کرنے کا اعزاز حاصل کر لیا۔
وزارت خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ مالی سال 2026 کے دوران یہ قبل از وقت قرض ادائیگی پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اور مسلسل قرض واپسی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ہزار 722 ارب روپے کی قبل از وقت ادائیگی محض قرض کی جلد واپسی نہیں بلکہ مالیاتی نظم و ضبط، کم خطرے پر مبنی معاشی حکمت عملی اور قرضوں کے بوجھ میں کمی کی کوششوں کا اہم حصہ ہے۔
خرم شہزاد نے کہا کہ اس اقدام سے مستقبل میں قرض سروسنگ کی لاگت میں کمی آئے گی۔ قومی خزانے پر مالی دباؤ کم ہو گا اور دستیاب وسائل کو دیگر ترقیاتی اور عوامی شعبوں پر خرچ کرنے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مقررہ وقت سے پہلے قرض کی ادائیگی پاکستان کی معیشت کو زیادہ استحکام کی جانب لے جانے والی ایک بنیادی تبدیلی ہے۔ جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے، مالیاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کا خدشہ
حکومت کی جانب سے 4 ہزار 722 ارب روپے کی قبل از وقت ادائیگی کو ملک کے مالیاتی شعبے میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، تاہم معاشی ماہرین کے مطابق طویل مدتی استحکام کے لیے برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاری کا فروغ اور آمدنی کے ذرائع میں بہتری بھی ضروری ہے۔
