مشرق وسطی کی صورتحال پر ترک صدر طیب اردوان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں علاقائی سلامتی، دوطرفہ تعلقات اور غزہ امن منصوبے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترکیہ کے صدارتی شعبہ مواصلات کے مطابق صدر اردوان نے سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حملوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور سلامتی کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
صدر اردوان نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے روڈ میپ پر اسرائیل کا مکمل عملدرآمد منصوبے کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔
ترکیہ کے صدارتی شعبہ مواصلات کے مطابق صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ خطے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
Turkish President Recep Tayyip Erdogan in phone call with Saudi Crown Prince Mohammed bin Salman:
– Discusses bilateral relations, as well as regional and global issues
– Expresses concern over attacks targeting Saudi Arabia; says Ankara is working to establish lasting peace in… pic.twitter.com/DLn4piTm73— TRT World (@trtworld) August 3, 2026
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس نے غزہ میں جامع امن، جنگ کے خاتمے اور تعمیرِ نو کے لیے باقاعدہ “روڈ میپ 2026” جاری کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت تیار کیے گئے اس 15 نکاتی فریم ورک کا مقصد غزہ میں پائیدار امن، مؤثر حکمرانی اور تعمیرِ نو کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔
بورڈ آف پیس کے مطابق منصوبے کی بنیاد “ایک اختیار، ایک قانون اور ایک اسلحہ” کے اصول پر رکھی گئی ہے۔ فریم ورک کا مقصد غزہ میں مکمل جنگ بندی، اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلاء اور فلسطینی قیادت میں تعمیرِ نو کے عمل کو یقینی بنانا ہے۔
روڈ میپ 2026 کے اہم نکات میں حماس کی جانب سے اقتدار اور اسلحے سے مکمل دستبرداری، بین الاقوامی نگرانی کے نظام کا قیام، عبوری بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی تعیناتی اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلاء کا منصوبہ شامل ہے۔ اس کے ساتھ غزہ کی وسیع پیمانے پر تعمیرِ نو اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی بھی منصوبے کا حصہ ہے۔
امریکا کی رضامندی کے بغیر ایران تک کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی، ڈونلڈ ٹرمپ
بورڈ آف پیس کا کہنا ہے کہ یہ روڈ میپ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ایک قابلِ عمل اور معتبر راستہ فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، تاہم اس پر عملدرآمد تمام متعلقہ فریقوں کے تعاون اور اتفاقِ رائے سے مشروط ہوگا۔
