امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پانے پر جہاں ایرانی حکام اسے امریکا اور اسرائیل کے خلاف “شاندار فتح” قرار دے رہے ہیں، وہیں ایران کے اندر سے اختلافی آوازیں اور تحفظات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
سی این این کے مطابق سرکاری میڈیا اور عوامی اجتماعات میں سخت گیر حلقے مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر تنقید کر رہے ہیں، جبکہ بعض مظاہروں میں مذاکراتی ٹیم کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے۔ اس کے باوجود حکام کا کہنا ہے کہ اہم فیصلے اعلیٰ قیادت ہی کرے گی۔
🚨🚨BREAKING NEWS 🚨
🇮🇷🇺🇸 Iran Regime Cracks Under Trump Pressure: Hardliners Turn on Own FM Over US Deal
Pro-regime demonstrators in Tehran took to the streets chanting for the execution of Iran’s Foreign Minister Abbas Araghchi as backlash erupts against the Trump-brokered… pic.twitter.com/NOVOEUe7YE
— Corefrontline (@corefrontline) June 14, 2026
تنقید کا بڑا حصہ “جبہہ پائیداری” نامی سخت گیر گروپ کی جانب سے سامنے آ رہا ہے، جو خود کو 1979 کے انقلاب کے نظریات کا محافظ سمجھتا ہے۔ اس گروپ کے رہنما محمود نبوویان نے کہا ہے کہ اس معاہدے سے ایران “امریکا کی کالونی” بن جائے گا اور اہم فیصلوں کیلئے بھی واشنگٹن کی اجازت درکار ہوگی۔
دوسری جانب حکومت سے قریبی حلقے اس بیانیے کو مسترد کر رہے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ جنگ اور مذاکرات سے متعلق فیصلے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کرتے ہیں، اور تمام حلقوں کو ان فیصلوں کی پیروی کرنا ہوگی۔
مایه تأسف است افرادی که در چارچوب مأموریتهای رسمی و با هدف صیانت از منافع ملی و عزت کشور در حال انجام وظیفه هستند، با برچسبهایی نظیر خیانت یا وطنفروشی مواجه شوند. نقد حق طبیعی جامعه است، اما تخریب کسانی که مأموریت مبتنی بر قانون به عهده دارند به دور از انصاف و مردانگی است.
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) June 14, 2026
انہوں نے مذاکراتی ٹیم پر “غداری” جیسے الزامات لگانے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی ٹی وی پر ہونے والی بحث ہمیشہ سرکاری پالیسی کی عکاسی نہیں کرتی۔
ادھر بعض مظاہرین نے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر رہنماؤں کے خلاف احتجاج کیا، جبکہ سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا نے اختلاف رائے کو تقسیم میں بدلنے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران میں مختلف سیاسی دھڑوں کو اظہار رائے کی اجازت ہے، تاہم بنیادی ریاستی ڈھانچے اور سپریم لیڈر کے اختیارات کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں مجموعی طور پر اختلافی آوازیں بلند ضرور ہوئی ہیں، تاہم عوام کی بڑی تعداد معاہدہ سے مطمئن ہے۔ پھر یہ بھی کہ فیصلہ سازی کا اختیار بدستور مضبوط ریاستی نظام کے پاس ہے، جو اس معاہدے کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
