بنگلا دیش (australia vs bangladesh)نے دوسرے ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں آسٹریلیا کو 5 وکٹوں سے شکست دے کر تاریخ میں پہلی مرتبہ کینگروز کے خلاف ون ڈے سیریز جیتنے کا اعزاز حاصل کرلیا۔
بارش سے متاثرہ میچ میں آسٹریلیا نے 42 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 187 رنز بنائے تھے، جس کے بعد ڈک ورتھ لوئس (DLS) قانون کے تحت بنگلا دیش کو 192 رنز کا ہدف ملا، جو اس نے 5 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔
میچ کا آغاز آسٹریلیا کے لیے انتہائی مایوس کن ثابت ہوا۔ مہمان ٹیم نے اپنی پہلی تین وکٹیں بغیر کوئی رن بنائے گنوا دیں اور وہ ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں صرف چوتھی ٹیم بن گئی جو 0 پر 3 وکٹوں سے محروم ہوئی۔ تسکین احمد اور مستفیض الرحمٰن نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا۔

میتھیو شارٹ مسلسل دوسری اننگز میں تسکین احمد کا شکار بنے، جبکہ کوپر کونولی اور میٹ رینشا بھی کھاتہ کھولے بغیر پویلین لوٹ گئے۔ بعد ازاں الیکس کیری بھی جلد آؤٹ ہوگئے جس سے آسٹریلیا کا اسکور 25 رنز پر 4 وکٹیں ہوگیا۔
مشکل صورتحال میں کپتان جوش انگلس نے 34 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی، تاہم وہ بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے۔ اس کے بعد مارنس لبوشین اور زیویئر بارٹلیٹ نے ساتویں وکٹ کے لیے 103 رنز کی شاندار شراکت قائم کرکے ٹیم کو سنبھالا۔ لبوشین نے ناقابل شکست 55 رنز بنائے جبکہ بارٹلیٹ نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 52 رنز کی اننگز کھیلی۔

بنگلادیش کی جانب سے مستفیض الرحمٰن اور تسکین احمد نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں۔

ہدف کے تعاقب میں بنگلا دیش کو سومیا سرکار اور نجم الحسن شانتو نے مضبوط آغاز فراہم کیا۔ دونوں بلے بازوں نے 42،42 رنز اسکور کیے اور ٹیم کو مستحکم پوزیشن میں پہنچایا۔ اگرچہ درمیان میں چند وکٹیں گرنے سے مقابلہ دلچسپ ہوگیا، تاہم توحید ہردوئے نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناقابل شکست 40 رنز بنائے۔

کپتان مہدی حسن مرزا نے بھی اہم اننگز کھیلتے ہوئے آخر تک ساتھ نبھایا۔ ہردوئے نے اختتامی لمحات میں ایک چھکا اور چوکا لگا کر فتح کو یقینی بنایا، جبکہ مہدی حسن نے باؤنڈری کے ساتھ میچ ختم کرکے بنگلادیشی شائقین کو جشن منانے کا موقع فراہم کردیا۔
اس کامیابی کے ساتھ بنگلا دیش نے آسٹریلیا کے خلاف اپنی پہلی ون ڈے سیریز جیت کر نئی تاریخ رقم کردی، جبکہ میزبان ٹیم کی بولنگ اور آل راؤنڈ کارکردگی فتح کی بنیاد ثابت ہوئی۔
