پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ کے پہلے روز میزبان ٹیم نے محتاط بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3 وکٹوں کے نقصان پر 194 رنز بنا لیے۔ بارش اور بعد ازاں خراب روشنی کے باعث پہلے دن کا کھیل مقررہ وقت سے پہلے ختم کرنا پڑا۔
ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، تاہم مسلسل بارش کی وجہ سے صبح کے سیشن میں صرف 14.1 اوورز کا کھیل ممکن ہوسکا۔ کھیل دوبارہ شروع ہونے کے بعد پاکستانی بولرز نے نپی تلی لائن اور لینتھ سے دباؤ برقرار رکھا، لیکن ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں نے محتاط انداز اپناتے ہوئے وکٹیں بچانے کو ترجیح دی۔
پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز پہلا ٹیسٹ، قومی ٹیم کا پلیئنگ الیون کے بارے میں اہم فیصلہ
ابتدائی سیشن میں ویسٹ انڈیز کو چند جھٹکے ضرور لگے، جہاں ٹیگنارائن چندرپال اور عامر جانگواپنی اننگز کو زیادہ دیر نہ بڑھا سکے، تاہم اس کے بعد برینڈن کنگ اور کپتان شائے ہوپ نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کی پوزیشن مستحکم کردی۔
برینڈن کنگ 12 رنز بنا سکے ،کیوم ہاج نے شاندار نصف سنچری اسکور کی اور دن کے اختتام تک وکٹ پر ڈٹے رہے، جبکہ شائے ہوپ نے بھی بھرپور ساتھ دیتے ہوئے اہم شراکت قائم کی۔
پاکستان کی جانب سے فاسٹ بولر محمد عباس سب سے مؤثر نظر آئے۔ انہوں نے روایتی انداز میں مسلسل درست لائن اور لینتھ پر بولنگ کی اور بارش کے بعد پچ سے ملنے والی مدد کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے 2 وکٹیں لیں۔
پاکستانی ٹیم کو بڑا دھچکا، عبداللہ فضل ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ ٹیسٹ سیریز سے باہر
شام کے وقت روشنی بتدریج کم ہونے لگی، جس کے باعث امپائرز نے پہلے کھلاڑیوں کو میدان سے باہر جانے کی ہدایت کی۔ اگرچہ کچھ دیر تک کھیل دوبارہ شروع ہونے کا انتظار کیا گیا، تاہم حالات بہتر نہ ہونے پر پہلے روز کا کھیل ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
پہلے روز کے اختتام پر ویسٹ انڈیز مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہے، جبکہ پاکستان دوسرے روز جلد وکٹیں حاصل کرکے میزبان ٹیم کو بڑے اسکور سے روکنے کی کوشش کرے گا۔
