وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت میں قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا ایک اہم اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان ترقیاتی ترجیحات اور وسیع تر معاشی ہم آہنگی کا جائزہ لیا گیا۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ آئندہ بجٹ کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ کئی ہفتوں سے مشاورت جاری ہے اور اس سلسلے میں تمام وزرائے اعلیٰ کے تعاون اور معاونت پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج بھی صوبوں کے ساتھ مزید وسائل پیدا کرنے اور قومی معیشت کو مضبوط بنانے کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں نے ٹیم ورک کے طور پر پاکستان کے بہترین مفاد میں فیصلے کیے ہیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنا، برآمدات میں اضافہ، معاشی بہتری اور پیداواری صلاحیت بڑھانا حکومت اور صوبوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صنعت اور زراعت کی ترقی کے ساتھ برآمدات کے فروغ پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
وزیراعظم نے خطے کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور کئی ممالک میں پیٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں دیکھی گئی ہیں۔ تاہم ان کے مطابق میکرو اقتصادی سطح پر پاکستان کی معیشت مستحکم ہے اور مزید اصلاحاتی اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قومی اتحاد اور اتفاق کے ذریعے دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ ممکن بنایا جائے گا۔
وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مضبوط دفاع اور قومی سلامتی کے تقاضے پورے کرنے کے لیے مناسب وسائل کی فراہمی ناگزیر ہے۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور پنجاب کی نمائندگی کے لیے سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب شریک ہوئے۔
اس کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ اور وفاقی سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال بھی شریک تھے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے ایجنڈے میں مالی سال 27-2026 کے لیے قومی سرمایہ کاری کا فریم ورک، مالی سال 26-2025 کے لیے جی ڈی پی (GDP) کی شرحِ نمو کے عارضی تخمینے اور مالی سال 25-2024 کے معاشی ڈیٹا کو حتمی شکل دینا تھا۔
