سوات: تھانہ کبل کے مرکزی دروازے کے قریب ہونے والے دھماکے میں پولیس اہلکاروں اور شہریوں سمیت 7 افراد شہید جبکہ 18 زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے تحت دھماکا خودکش حملہ معلوم ہوتا ہے، تاہم بم ڈسپوزل اسکواڈ جائے وقوعہ پر پہنچ کر دھماکے کی نوعیت کا تعین کر رہا ہے۔ دھماکے کے نتیجے میں تھانے کے گیٹ کو جزوی نقصان بھی پہنچا۔
ڈی پی او سوات محمد عمر خان کے مطابق خودکش حملہ آور کا سر جائے وقوعہ سے مل گیا ہے، جبکہ ابتدائی تحقیقات میں حملہ آور کے افغان شہری ہونے کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق ضلع سوات کے تھانہ کبل کے مرکزی دروازے کے سامنے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے خودکش حملہ کیا، جس میں پولیس اہلکار اور عام شہری شہید ہوئے۔ تمام زخمیوں اور شہداء کو سنٹرل ہسپتال سوات منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈی پی او سوات عمر خان کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود ہے، جبکہ علاقے کو گھیرے میں لے کر ممکنہ سہولت کاروں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
At least seven people were killed and 18 injured in a suicide bombing at the gate of Kabal Police Station in Swat, police said. The victims include both police personnel and civilians after the attacker detonated his explosive vest at the station’s entrance.#Swat #Kabal… pic.twitter.com/RXf0D9kY9z
— Sajjad Tarakzai (@SajjadTarakzai) August 2, 2026
ڈی پی او سوات نے کہا کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ دھماکے کی نوعیت کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ حملے میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کا سراغ لگا کر انہیں قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا جائے گا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے سوات کے علاقے کبل میں ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دھماکے میں جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ متاثرہ افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک حکومت اور ریاست کی جدوجہد جاری رہے گی۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھی سوات کبل خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر و حوصلے کی دعا کی۔
صدر زرداری نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ زخمیوں کے علاج معالجے میں کوئی کمی نہ چھوڑی جائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد امن، قومی یکجہتی اور ریاستی رٹ کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوششوں میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ انہوں نے واقعے کی جامع تحقیقات کر کے دہشت گردی کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت بھی کی۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے سوات کے علاقے کبل میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا سے طلب کر لی ہے۔
وزیراعلیٰ نے دھماکے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں اور شہریوں کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
محمد سہیل آفریدی نے دھماکے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور علاج معالجے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے عظیم قربانیاں دے رہی ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ امن دشمن عناصر کو اپنے مذموم عزائم میں ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سوات کے تھانہ کبل کے قریب ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
محسن نقوی نے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہادر پولیس جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر خودکش بمبار کو تھانے کے اندر داخل ہونے سے روکا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اپنی زندگیاں قربان کر کے دوسروں کی زندگیاں بچانے والے پولیس اہلکاروں نے فرض شناسی اور بہادری کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ انہوں نے شہید پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو سلام پیش کیا،محسن نقوی نے دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔
