وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو کو غلط معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات پرامن طریقے سے منعقد ہوئے اور پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شام 6 بجے تک پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود تمام ووٹرز کو اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مظفرآباد ڈویژن میں ووٹنگ کے لیے ایک گھنٹے کا اضافی وقت بھی دیا گیا جبکہ پیپلز پارٹی نے میرپور ڈویژن میں انتخابی نتائج مکمل ہونے تک کسی قسم کا اعتراض نہیں اٹھایا۔ ان کے بقول بعد میں پیپلز پارٹی نے صرف میرپور ڈویژن کی دو نشستوں پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے۔
انہوں نے کہا کہ آج انتخابی عمل کے دوران صرف تین واقعات پیش آئے، جن میں ایک واقعہ صدر آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر کے پولنگ اسٹیشن پر پیش آنے والی تلخ کلامی کا تھا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اسے قاتلانہ حملہ قرار دیا تاہم ان کے مطابق چوہدری لطیف اکبر پر حملہ ذاتی تنازعے کا نتیجہ تھا اور ان کا مخالف فریق سے دو سے ڈھائی سال سے اختلاف چلا آ رہا ہے۔
سینیٹر رانا ثناء اللہ نے مشتاق احمد کے حوالے سے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کے کارکن نہیں تھے، ان کے بقول مشتاق احمد کو مبینہ طور پر ان کے بھانجے نے دھکا دیا تھا، انہیں گولی نہیں لگی، اور گھر پہنچنے کے بعد انہیں دل کا دورہ پڑا۔
انہوں نے بلاول بھٹو سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ انہیں غلط معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کے الفاظ میں، “بلاول بھٹو صاحب، آپ پڑھے لکھے ہیں، آپ کو بہت آگے جانا ہے، گمراہ نہ ہوں۔” رانا ثناء اللہ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ سندھ سے تعلق رکھنے والا ایک رکن قومی اسمبلی آزاد کشمیر میں کیا کرنے گیا تھا۔
سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا موجودہ رویہ افسوسناک ہے۔
مسلم لیگ ن کے شرپسند عناصر کی جانب سے آزاد کشمیر میں وقار اور اصول پسندی کی سیاست کی علامت، صدرِ ریاستِ آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر حملہ قابل مذمت ہے، چوہدری لطیف اکبر پر حملے کے بعد انہی کے انتخابی حلقے ایل اے 31 میں میرے کارکن مشتاق شاہ کو شہید کردیا گیا، گولی، لاٹھی…
— Bilawal Bhutto Zardari (@BBhuttoZardari) August 2, 2026
واضح رہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے صدر آزاد جموں و کشمیر چودھری لطیف اکبر پر حملے اور حلقہ ایل اے 31 میں پیپلز پارٹی کے کارکن مشتاق شاہ کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ باوقار اور اصولی سیاست کی علامت چودھری لطیف اکبر پر آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کے انتہا پسند عناصر کا حملہ انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چودھری لطیف اکبر پر حملے کے بعد اسی حلقے ایل اے 31 میں ان کے کارکن مشتاق شاہ کو شہید کر دیا گیا۔
اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے مقتول کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے صدرِ ریاست پر حملہ اور پھر پارٹی کارکن کی شہادت سے مسلم لیگ (ن) کی نیت واضح ہو گئی ہے۔
آزاد کشمیر الیکشن کے دوسرے مرحلہ کی پولنگ کا عمل مکمل، ووٹوں کی گنتی شروع
بلاول بھٹو زرداری نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر گولی، ڈنڈے اور زور زبردستی کے ذریعے عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈال رہی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ چودھری لطیف اکبر پر حملے میں ملوث افراد اور پیپلز پارٹی کے کارکن مشتاق شاہ کے قتل کے ذمہ داروں کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
