محکمہ داخلہ آزادکشمیر نے شوکت نواز میر اور خواجہ مہران ارشد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی،شوکت نواز میر اور خواجہ مہران پر بغاوت اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزامات ہیں۔
حکومت آزادکشمیرنے شوکت نواز میر کیخلاف دفعہ 124 اے کے تحت تحقیقات کا حکم دیدیا،نوٹیفکیشن کے مطابق دستیاب شواہد اور ریکارڈ مزید تحقیقات کے متقاضی قرار دیے گئے ہیں۔
کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مرکزی دفترسیل
ضلعی پولیس سربراہان کو دفعہ 196 کے تحت تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ، پولیس سربراہان کو تحقیقات مکمل کر کے متعلقہ عدالت میں چالان پیش کرنے کا حکم دیدیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق مبینہ لیک آڈیو کال میں دونوں افراد راولاکوٹ میں تصادم کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، لیک آڈیو میں ریاستی اداروں کیخلاف تخریبی کارروائیوں اور محاصرے کی منصوبہ بندی کا انکشاف ہوا۔
مبینہ لیک آڈیو کال کو گزشتہ شب متعدد قومی میڈیا اداروں نے نشر کیا،آڈیو گفتگو اور راولاکوٹ کے پرتشدد واقعات میں مماثلت سے تحقیقات کو تقویت ملی،تحقیقاتی ادارے مبینہ منصوبہ بندی، اشتعال انگیزی اور رابطہ کاری کا جائزہ لے رہے ہیں۔
حکومت نے ایس ایس پی مظفرآباد کو شوکت نواز میر کیخلاف تحقیقات کی ہدایت کی جبکہ ایس ایس پی میرپور کو خواجہ مہران ارشد کے خلاف تحقیقات کی ہدایت کی گئی ہے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم تنظیم قرار
ریاستی اداروں پر حملوں اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے پہلو تفتیش میں شامل ہیں ، امن عامہ میں خلل ڈالنے اور تشدد پر اکسانے کے تمام پہلوؤں کی بھی تفتیش ہوگی۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پرتشدد سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائیگا۔
