نیب نے رئیل اسٹیٹ میں فائل کلچر ختم کرنے اور نقد جائیداد خرید و فروخت پر پابندی کا اعلان کر دیا۔
چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) نذیر احمد نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں فائل کلچر کے خاتمے اور جائیداد کی نقد خرید و فروخت پر پابندی کے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ 4 سے 5 ماہ بعد پلاٹوں کی فائلوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہے گی۔
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں شفافیت لانے کے لیے ہر پلاٹ کو بارکوڈ والا منفرد نمبر الاٹ کیا جائے گا جبکہ ون ونڈو نظام سمیت جامع اصلاحات بھی متعارف کرائی جا رہی ہیں۔
نذیر احمد نے کہا کہ ماضی میں نیب پر سیاسی انجینئرنگ کے الزامات لگتے رہے، تاہم اب ادارہ صرف شواہد اور قانون کی بنیاد پر فیصلے کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کے عمل کو شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
چیئرمین نیب نے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئی ایم ایف کا ایک ٹول ہے اور جس ادارے کی اپنی ساخت شفاف نہ ہو، وہ شفافیت کے بارے میں کس طرح مستند رپورٹ دے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوہستان کرپشن کیس میں 38 ارب روپے میں سے 27 ارب روپے کی ریکوری ہو چکی ہے جبکہ گزشتہ برس نیب کی مجموعی ریکوریز کا حجم 5.4 ٹریلین روپے رہا۔
گلگت بلتستان انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کامیابی، وزیراعظم کی صدر آصف زرداری اور بلاول کو مبارکباد
اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ قانون کی بالادستی اور بدعنوانی کے خاتمے سے ہی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے، انہوں نے زور دیا کہ احتساب کا نظام ایسا ہونا چاہیے جو کرپشن کی روک تھام کرے لیکن کاروباری سرگرمیوں میں غیر ضروری رکاوٹ نہ بنے۔
