مظفر آباد: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے آزاد کشمیر کو 10 الیکٹرک بسیں دینے کے اعلان پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آزاد کشمیر سے رجوع کر لیا۔
پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر بخاری نے چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل سے ملاقات کی اور مریم نواز کی تصاویر کے ساتھ آزاد کشمیر کو فراہم کی گئی الیکٹرک بسوں کے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
نیئر بخاری نے کہا کہ انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد عوامی وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا انتخابی قوانین اور ضابطہ اخلاق کے خلاف ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب کے عوام کے ٹیکس سے خریدی گئی بسوں کو “سیاسی رشوت” کے طور پر استعمال کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز سید نیر حسین بخاری کی چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل سے ملاقات
ملاقات میں سیکرٹری جنرل پی پی پی ہمایوں خان بھی موجود تھے۔موٹیویشن سروس کیلئے این اوسی جاری کیا جائے،نیئر بخاری
آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کو پارٹی… pic.twitter.com/l4cZuPKsub
— Pakistan Peoples Party – PPP (@PPP_Org) July 25, 2026
نیئر بخاری نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ بسیں ذاتی فنڈز سے خریدی گئی ہیں جو ان پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی تصاویر آویزاں کی گئی ہیں؟، جبکہ سرکاری وسائل کو کسی سیاسی شخصیت کی تشہیر کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کی موجودہ پالیسی پر نظرثانی کی جائے ، پاکستان بزنس فورم کا وزیراعظم کو خط
واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے آزاد کشمیر کے انتخابات سے قبل انتخابی جلسوں میں 10 جدید گرین الیکٹرک بسیں تحفے میں دینے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں پنجاب حکومت کی ہدایت پر یہ بسیں آزاد کشمیر روانہ کی گئیں، جن پر مریم نواز کی تصاویر کے ساتھ “آزاد کشمیر کے لیے تحفہ” درج ہے۔
اس پر آزادجموں و کشمیر الیکشن کمیشن کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ عام انتخابات کے دوران کسی بھی فرد یا ادارے کو انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور الیکشن کمیشن شفاف، آزاد اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہا ہے
انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی اور صوبائی وزراء آزاد کشمیر میں انتخابی مہم میں حصہ لے سکتے ہیں، تاہم وہ کسی بھی صورت سرکاری پروٹوکول، سرکاری وسائل یا حکومتی مشینری کو انتخابی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کر سکتے
انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران کسی بھی قسم کی نئی ترقیاتی سکیم، مالی پیکج، سہولت یا عوامی مفاد کے کسی نئے منصوبے کا اعلان ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔ اسی طرح وفاقی حکومت یا کسی بھی صوبائی حکومت کی جانب سے انتخابات کے دوران بھیجی جانے والی گاڑیاں، سامان، امدادی اشیاء یا کسی بھی نوعیت کی سہولیات ضبط کر لی جائیں گی اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
