معروف پاکستانی گلوکار فلک شبیر نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے عوامی مقامات پر لباس کے حوالے سے قانون سازی کرنے کی ‘عاجزانہ درخواست’ کر دی ہے۔
گلوکار نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک اسٹوری شیئر کی، جس میں انہوں نے سب سے پہلے پنجاب حکومت کی جانب سے صوبے میں ویپنگ (ای سگریٹ) پر پابندی عائد کرنے کے اقدام کو سراہا۔
پنجاب حکومت کے فیصلے کی تعریف کرنے کے ساتھ ہی فلک شبیر نے لباس کے معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ یہ بہت اچھا اقدام ہے لیکن دو بیٹیوں کا باپ ہونے کی حیثیت سے میں مریم نواز سے عاجزانہ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ عوامی مقامات، بازاروں اور سڑکوں پر چھوٹے کپڑے پہننے والوں کے خلاف بھی کوئی قانون بنایا جائے، ورنہ ثقافتی طور پر ہم تباہ ہو جائیں گے۔

فلک شبیر کی اس درخواست پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ صارفین کا ایک دھڑا اس بیان سے انتہائی خوش ہے اور ان کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدام سے ہماری ثقافت کا تحفظ ممکن ہو سکے گا۔
دوسری طرف، کچھ صارفین کا اصرار ہے کہ گلوکار نے اپنی تحریر میں کہیں بھی خواتین کا ذکر نہیں کیا، اس لیے انہیں خواتین مخالف نہیں کہا جا سکتا، بلکہ ممکنہ طور پر وہ شارٹس پہننے والے مردوں کے بارے میں بات کر رہے تھے۔
اس بحث کے دوران صارفین کا ایک بڑا حلقہ اس اچانک آنے والے بیان پر حیرت کا اظہار بھی کر رہا ہے۔
