تہران، ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہیں اور اس تعطل کے خاتمے کے لئے واشنگٹن کو ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنا ہوں گے۔
اپنے بیان میں محسن رضائی نے کہا کہ امریکا کے پاس موجود تقریباً 24 ارب ڈالر ایران کے اثاثے ہیں اور یہ رقم امریکا کی نہیں بلکہ ایرانی عوام کی ملکیت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ اگر مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہتی ہے تو سب سے پہلے منجمد اثاثوں کی واپسی کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
امریکا اور اسرائیل نے یو اے ای کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال کی ، ثبوت موجود ہیں، ایرانی وزیر خارجہ
ایرانی رہنما نے خطے کی صورتحال پر بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو اس کے اثرات بحرِ ہند، بحیرہ احمر اور باب المندب تک پھیل سکتے ہیں۔

محسن رضائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے درمیان کسی ممکنہ ملاقات کی قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ملاقات کبھی نہیں ہوگی۔
