اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک کی معاشی، ترقیاتی اور سیکیورٹی ضروریات سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں مختلف وزارتوں اور اداروں کیلئے اربوں روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری دی گئی، جبکہ کئی بڑے قومی منصوبوں کیلئے فنڈز جاری کرنے کی بھی اجازت دے دی گئی۔
اجلاس میں پاکستان نیوی کے ہنگور پراجیکٹ کیلئے 10 ارب 15 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی جسے دفاعی صلاحیت میں اضافے کے حوالے سے اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی طرح پی ٹی وی ملازمین کی جون کی تنخواہوں کیلئے 73 کروڑ 30 لاکھ روپے جاری کرنے کی منظوری بھی دی گئی تاکہ ادارے کے مالی معاملات میں تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
اقتصادی کمیٹی نے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کیلئے 100 ارب روپے کی سنڈیکیٹڈ رننگ فنانس سہولیات جاری رکھنے کی بھی منظوری دی، جس کا مقصد توانائی کے شعبے میں استحکام اور تیل کی سپلائی چین کو برقرار رکھنا ہے۔
انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر مزید سستا، روپے نے بہتری دکھا دی
پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) پروگرام کیلئے 7 ارب 26 لاکھ روپے سے زائد کی گرانٹ منظور کی گئی تاکہ سماجی ترقی کے منصوبوں کو جاری رکھا جا سکے۔
گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں موبائل ٹاورز کی تنصیب کیلئے 18 کروڑ 35 لاکھ روپے جبکہ گلگت بلتستان حکومت کی مالی ضروریات کیلئے 4 ارب 37 کروڑ روپے سے زائد کی رقم منظور کی گئی۔
اسی طرح کراچی اور حیدرآباد اربن انفراسٹرکچر پیکج کیلئے 8 ارب 75 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز جاری کرنے کی منظوری بھی دی گئی جس کا مقصد شہری سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔

خیبر پختونخوا کیلئے سیپ (SEP) کے تحت 2 ارب 84 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔ پاکستان منٹ فیز ٹو اے کی اپ گریڈیشن کیلئے 1 ارب 30 کروڑ روپے بھی منظور کیے گئے۔
وزارت داخلہ کی پیش کردہ 7 اہم سمریوں کی منظوری کے ساتھ ساتھ اسلام آباد امن مذاکرات کے سیکیورٹی انتظامات کیلئے 69 کروڑ 29 لاکھ روپے جاری کیے گئے۔
اجلاس میں اسلام آباد خودکش دھماکے کے شہدا اور متاثرین کیلئے 24 کروڑ 10 لاکھ روپے کے معاوضے کی منظوری بھی دی گئی، جبکہ سیف سٹی پراجیکٹ کی توسیع کیلئے 1 ارب 88 کروڑ روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی، ریکوڈک منصوبے کے سیکیورٹی چارجز کیلئے 41 کروڑ 39 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی۔
مزید برآں نیکٹا کی آپریشنل ضروریات کیلئے 15 کروڑ روپے، پاکستان لینڈ پورٹس اتھارٹی کیلئے 52 کروڑ 80 لاکھ روپے، اور اینگرو وپاک ٹرمینل لمیٹڈ کے آپریشنز کو جاری رکھنے کی منظوری دی گئی، پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی کے تحت سینرجیکو کے ساتھ معاہدے میں ترمیمی فریم ورک کی بھی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹریز کی تنخواہوں اور الاؤنسز کیلئے 11 کروڑ 99 لاکھ روپے جبکہ پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کی جامع مسجد کی توسیع و اپ گریڈیشن کیلئے 3 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی گئی۔
ای سی سی نے مجموعی طور پر ان فیصلوں کو قومی ترقی، توانائی استحکام اور سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا۔
