ٹوکیو: جاپان نے 20 سال بعد ایک بار پھر بھارتی آموں کی درآمد پر پابندی عائد کر دی۔ جسے بھارتی زرعی برآمدات کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جاپانی حکام کی جانب سے کیے گئے معائنے کے دوران بھارتی پروسیسنگ مراکز میں علاج اور معیار سے متعلق بعض خامیاں سامنے آئیں۔
رپورٹس کے مطابق ان معائنوں کے دوران فومیگیشن اور ٹریٹمنٹ کے عمل میں بھی کئی نقائص کی نشاندہی کی گئی، جس کے بعد پابندی کا فیصلہ کیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ کیڑے یا آلودگی کے خطرے کو روکا جا سکے۔
جاپان کے اس فیصلے سے الفانسو، کیسر، لنگڑا اور بنگناپلی سمیت مشہور بھارتی آموں کی برآمد متاثر ہوئی ہے۔ جاپان نے فروٹ فلائی جیسے نقصان دہ کیڑوں کے خطرے کے باعث زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت یہ قدم اٹھایا۔
جاپانی حکام کا مؤقف ہے کہ پھلوں کی درآمد میں سخت معیار اور حیاتیاتی تحفظ کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت یہ اقدام کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی گئی
تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے سے بھارت کی زرعی برآمدات اور خاص طور پر آم کی انڈسٹری کو مالی نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔ جبکہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر مزید بات چیت کا امکان ہے۔
