نئی دہلی: معروف اردو شاعر اور غزل گوئی کی دنیا کے ممتاز نام بشیر بدر آج 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ طویل عرصے سے علالت اور ڈیمنشیا جیسی بیماری میں مبتلا تھے۔
خاندانی ذرائع اور مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق معروف شاعر بشیر بدر نے بھوپال میں اپنی رہائش گاہ پر آخری سانس لی اور خالق حقیقی سے جا ملے۔
15 فروری 1935 کو ایودھیا میں پیدا ہونے والے بشیر بدر نے اردو غزل کو ایک نیا انداز دیا۔ جس میں سادگی، روانی اور جذبات کی گہرائی نمایاں تھی۔ ان کی شاعری عوامی سطح پر بھی بے حد مقبول رہی اور تعلیم یافتہ طبقے میں بھی یکساں پذیرائی حاصل کرتی رہی۔
ان کی مشہور غزلوں میں شامل اشعار آج بھی زبان زد عام ہیں، جن میں
“خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے، کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے” اور “دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے، جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں”
یہ بھی پڑھیں: ہراسانی الزامات ، ارسلان بٹ نے مامیا شاہ جعفر کو قانونی نوٹس بھیج دیا
بشیر بدر کی شاعری نے جدید اردو غزل کو نئی شناخت دی اور ان کے انداز بیان کو سادہ مگر اثر انگیز سمجھا جاتا ہے۔ ادبی حلقوں کے مطابق ان کی وفات اردو ادب کے لیے ایک بڑا نقصان ہے اور ان کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا طویل عرصے تک پر نہیں ہو سکے گا۔
