اسلام آباد: وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان فلسطینیوں اور کشمیریوں کے حقوق کا حامی ہے۔ جبکہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی قبول نہیں۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ میں عالمی امن اور سلامتی سے متعلق مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں ایسے سیشنز کی اشد ضرورت ہے اور پاکستان ان کے انعقاد پر چین کا مشکور ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر نے ریاستوں کے درمیان تعلقات، مساوات اور حق خودارادیت کے اصول واضح کیے ہیں۔ اور پاکستان ان اصولوں اور چارٹر پر مکمل طور پر کاربند ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان دیرینہ تنازعات کے پرامن حل کا حامی ہے۔ اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق امن کا فروغ اور تنازعات کا حل ریاستوں کی ذمہ داری ہے۔ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر کشیدگی نے معاشی چیلنجز میں بھی اضافہ کیا ہے۔ جبکہ پاکستان نے امن کوششوں کی حمایت پر دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔
انہوں نے مسئلہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنازعہ 8 دہائیوں سے حل طلب ہے۔ اور عالمی قوانین و معاہدوں کی پاسداری یقینی بنانا ضروری ہے۔ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں، اور پاکستان سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو تسلیم نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیں: قطر میں ایران امریکا امن مذاکرات میں پیشرفت کا دعویٰ، بات چیت مثبت سمت میں جاری
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق میں بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نہتے فلسطینیوں کے حقوق کا حامی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں منصفانہ اور جمہوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام رکن ممالک کو مساوی کردار دیا جانا چاہیے۔
