ایران امریکا ممکنہ معاہدے کے مسودے میں اہم شق شامل کر لی گئی۔
ایرانی میڈیا نے کہا ہے کہ شق کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادی ایران اوراس کےاتحادیوں پر کسی قسم کاحملہ نہیں کریں گے اور ایران امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کسی بھی قسم کا پیشگی فوجی حملہ نہیں کرے گا۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیئس نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق معاہدے میں 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کی تجویز شامل ہے۔ مجوزہ معاہدے کے تحت اس مدت کے دوران آبنائے ہرمز ہر قسم کے ٹول یا پابندی کے بغیر کھلی رہے گی۔
امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ممکنہ معاہدے کے نتیجے میں ایران کو عالمی منڈی میں آزادانہ طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت مل سکتی ہے، جبکہ بدلے میں امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے اور بعض پابندیوں میں نرمی پر غور کرسکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق مذاکرات جاری رہیں گے جبکہ مجوزہ یادداشت میں ایران کی جانب سے یہ یقین دہانی بھی شامل ہوگی کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم نے کہا ہے کہ مسودے میں تمام محاذوں بشمول لبنان میں جنگ کےخاتمے پر زور دیا گیا ہے، مجوزہ معاہدے کےتحت اسرائیل کو لبنان میں جنگ ختم کرنا ہو گی۔
نیوز ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمزاورناکہ بندی سےمتعلق امور کیلئے30 دن کامرحلہ مقرر کیا جائے گا، جوہری مذاکرات کےلیے60 دن کی مدت رکھی جائے گی، ایران نےتاحال جوہری پروگرام سے متعلق کوئی عملی اقدام قبول نہیں کیا۔
