کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر زوردار دھماکے کے نتیجے میں 3 ایف سی اہلکاروں سمیت 14 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر دھماکا ہوا ، زخمی ہونے والوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ زخمیوں میں خواتین اوربچےبھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق دھماکے سے ٹرین اور ٹریک کے اطراف میں کھڑی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ اردگرد کی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔
دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ، کوئٹہ کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، معاون خصوصی بابر یوسفزئی نے کہا کہ واقعہ کی معلومات حاصل کر رہے ہیں، متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ دھماکے کے بعد پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو کوئٹہ اسٹیشن پر ہی روک لیا گیا۔
جنوبی وزیرستان میں دھماکا، قبائلی رہنما سمیت 3 افراد جاں بحق
ادھر صدر مملکت آصف علی زرداری کی کوئٹہ میں دہشتگردی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن عناصر کا مقصد پاکستان کی عالمی امن کاوشوں سےتوجہ ہٹانا ہے، دہشتگردوں اور ان کے سرپرستوں کو نہ بھولیں گے اور نہ معاف کرینگے، شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، ہر قطرے کا حساب لیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کی بزدلانہ کارروائیاں پاکستانی قوم کےعزم کو کمزور نہیں کر سکتیں، دہشتگردی کو جڑ سے ختم کرنے کے عزم پرقائم ہیں۔
لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ کے بازار میں دھماکا ، 7 افراد شہید ، 18 زخمی
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر درندگی کا ثبوت دے رہے ہیں، بے گناہ شہریوں کا خون بہانے والےدہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں، دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو چن چن کرانجام تک پہنچایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند نے کہا ہے کہ دہشتگرد کسی رعایت کے مستحق نہیں، تحقیقات شروع کر دی ہیں، ملوث عناصر قانون سے نہیں بچ سکتے۔
