عالمی برادری نے فریڈم فلوٹیلا کے گرفتار کارکنان کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اسرائیل سے معافی کا مطالبہ کر دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فرانس، کینیڈا، نیدرلینڈز، اٹلی، آسٹریلیا، بیلجیم اور نیوزی لینڈ سمیت متعدد ممالک نے اسرائیلی سفیروں کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں فلوٹیلا کے کارکنان کو ہتھکڑیاں لگائے، زمین پر بٹھائے اور گھٹنوں کے بل جھکنے پر مجبور کیے جانے کے مناظر دکھائے گئے ہیں، جس پر دنیا بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
ככה אנחנו מקבלים את תומכי הטרור
Welcome to Israel 🇮🇱 pic.twitter.com/7Hf8cAg7fC
— איתמר בן גביר (@itamarbengvir) May 20, 2026
رپورٹس کے مطابق اسپین، برطانیہ، جرمنی، آئرلینڈ، یونان، پولینڈ، ترکیے، قطر اور جنوبی کوریا نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی وقار کے خلاف قرار دیا۔
برطانوی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر نے کہا ہے کہ اسرائیلی رویہ انسانی وقار اور بنیادی احترام کے اصولوں کے منافی ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے بھی کہا ہے کہ امدادی کارکنان کو ہتھکڑیاں لگانا اور توہین آمیز رویہ اختیار کرنا قابل مذمت ہے۔
واقعے پر پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں بھی غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اور عالمی سطح پر اس معاملے کی شفاف تحقیقات اور جوابدہی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
