2 جون 2025 کو ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل سے لے کر اسلام آباد کی سیشن عدالت کی جانب سے کیس کا فیصلہ سنائے جانے تک پولیس کی تفتیش اور عدالتی کارروائی نے کئی رخ اختیار کیے۔
آئیے کیس کے مکمل پسِ منظر سے آپ کو آگاہ کرتے ہیں:۔
قتل کا واقعہ اور مرکزی ملزم کی گرفتاری
ٹک ٹاکر ثنا یوسف کو 2 جون 2025ء کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع ان کی رہائش گاہ پر بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔
واقعے کے فوری بعد اسلام آباد پولیس نے کارروائی کا آغاز کیا اور اگلے ہی روز، یعنی 3 جون 2025ء کو، واقعے کے مرکزی ملزم عمر حیات کو جڑانوالہ سے گرفتار کر لیا۔
تفتیشی مراحل اور شواہد کی برآمدگی
ملزم کی گرفتاری کے بعد تفتیش کا عمل تیزی سے آگے بڑھایا گیا:
13 جون 2025ء کو تفتیشی حکام نے ملزم عمر حیات کی قانونی شناخت پریڈ کا عمل کامیابی سے مکمل کیا۔
Breaking News from Islamabad: The District and Sessions Court has sentenced the prime accused, Umar Hayat, to death in the high-profile TikToker Sana Yousaf murder case. Additional Sessions Judge Muhammad Afzal Majoka also handed down a combined 21-year prison sentence and a 2.5… pic.twitter.com/XdnNXnqREw
— Umer Burney (@umer_burney) May 19, 2026
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جڑانوالہ سے ملزم کا دوسرا موبائل فون بھی برآمد کیا، جو کیس میں اہم ترین تکنیکی ثبوت کے طور پر سامنے آیا۔
فردِ جرم اور عدالتی کارروائی
مقدمے کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد کیس کو باقاعدہ سماعت کے لیے عدالت کے سپرد کیا گیا:
20 ستمبر 2025ء کو عدالت نے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مرکزی ملزم عمر حیات پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کی۔
25 ستمبر 2025ء کو مقدمے کی باقاعدہ عدالتی کارروائی کا آغاز ہوا اور کیس کے پہلے گواہ کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔
اس ہائی پروفائل قتل کیس میں استغاثہ کی جانب سے مجموعی طور پر 31 گواہان نامزد کیے گئے تھے، جن میں سے عدالت نے 27 اہم گواہان کے بیانات تفصیلی طور پر قلمبند کیے۔
