ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دودھ اور پنیر جیسے ڈیری مصنوعات انسانی صحت کے لیے بیک وقت فائدہ مند بھی ہو سکتی ہیں اور بعض پہلوؤں سے نقصان دہ بھی، خاص طور پر آنتوں میں موجود بیکٹیریا پر ان کے مختلف اثرات سامنے آئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق انسانی آنتوں میں موجود جراثیم (گٹ مائیکروبایوم) ہاضمے، قوتِ مدافعت اور حتیٰ کہ ذہنی کیفیت پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں، اور ہماری خوراک اس نظام کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔
اس تحقیق میں پہلی بار فضلے کے بجائے بڑی آنت کی اندرونی سطح (colon lining) سے نمونے لے کر تجزیہ کیا گیا، جس سے ان بیکٹیریا کا بہتر اندازہ ہوا جو براہِ راست جسم کے خلیات کے ساتھ تعامل کرتے ہیں۔
نتائج کے مطابق زیادہ دودھ پینے والے افراد میں مفید بیکٹیریا کی اقسام (diversity) زیادہ پائی گئیں، جن میں Faecalibacterium اور Akkermansia جیسے بیکٹیریا شامل ہیں، جو سوزش کم کرنے اور آنتوں کی صحت بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دودھ میں موجود لیکٹوز بعض بیکٹیریا کے لیے خوراک (prebiotic) کا کام کرتا ہے، جس سے ان کی افزائش بڑھتی ہے۔
دوسری جانب پنیر کے اثرات مختلف پائے گئے۔ زیادہ پنیر استعمال کرنے والوں میں بعض بیکٹیریا کی مقدار کم دیکھی گئی، جن میں کچھ ایسے بھی شامل ہیں جو عام طور پر صحت کے لیے فائدہ مند سمجھے جاتے ہیں، جس سے ماہرین کے لیے نئے سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
دہی کے بارے میں واضح نتائج سامنے نہیں آ سکے کیونکہ شرکاء کی جانب سے اس کا استعمال بہت کم تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر فرد کا مائیکروبایوم مختلف ہوتا ہے، اس لیے ڈیری مصنوعات کے اثرات بھی فرداً فرداً مختلف ہو سکتے ہیں۔ تاہم متوازن غذا، مناسب نیند اور صحت مند طرزِ زندگی آنتوں کی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ تحقیق جریدے “نیوٹرینٹس” میں شائع ہوئی ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ مزید بڑے پیمانے پر مطالعات کی ضرورت ہے تاکہ مختلف ڈیری مصنوعات کے اثرات کو مزید بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
