ملک کا جاری کھاتہ ایک بار پھر خسارے میں چلا گیا،رواں مالی سال جولائی تا اپریل جاری کھاتہ کو 25 کروڑ 20 لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا ہے،گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں جاری کھاتہ ایک ارب 66 کروڑ ڈالر فاضل رہا تھا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں جاری کھاتہ کو 32 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا خسارہ درپیش رہا،مارچ 2026 میں جاری کھاتہ ایک ارب 13 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سرپلس رہا تھا۔
گورنر اسٹیٹ بینک کا انتباہ، مہنگائی 7 فیصد تک جانے کا امکان
درآمدی بل بڑھنے سے تجارتی خسارہ میں اضافہ جاری کھاتہ کے خسارے کابنیادی سبب قراردیا گیا ہے،رواں مالی سال جولائی تا اپریل تجارتی خسارہ 26.9 ارب ڈالر رہا۔
اشیاء و خدمات کی تجارت کا مجموعی خسارہ 28.96 ارب ڈالر رہا،گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں تجارتی خسارہ 21.4 ارب ڈالر رہا،اشیاء و خدمات کی تجارت کا مجموعی خسارہ 23.78 ارب ڈالر رہا تھا۔
