وفاقی حکومت نے مالی سال27-2026کیلئے 18 ہزار 771 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کردیا گیا، پنشن بھی 7 فیصد بڑھا دی گئی۔کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 27-2026 پیش کیا،بجٹ تقریر میں ان کا کہنا تھا کہ بجٹ تیاری میں وزیراعظم اور بلاول بھٹو کامشکور ہوں،تیسرا بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔
بھارتی جارحیت کا پاکستانی فورسز نے بھرپور جواب دیا،بنیان مرصوص کی کامیابی ہماری تاریخ کا روشن حصہ ہے،مضبوط دفاع معاشی قوت میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک معاہدہ انتہائی اہم ہے،پاکستان کی جانب سے دشمن کو ایسا جواب ملا کہ دنیا کو نوٹس لینا پڑا،آج دنیا پاکستانی دفاعی قوت کی معترف ہے۔
وزیر اعظم کی قیادت میں حکومت نے انتھک محنت سے حالات پر قابو پایا۔حکومت نے کئی اہم اور دو رس نتائج کی حامل معاشی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
سیلاب اور امریکا ایران جنگ کے باوجود ہماری معاشی شرح نمو 3.7 فیصد تک پہنچ چکی ،ہماری بڑی صنعتوں کی پیداواری صلاحیت بڑھ رہی ہے،اس مالی سال میں لارج سکیل مینو فیکچرنگ کی شرح نمو 6.1 فیصد تک رہی ہے۔
خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد کی شرح نمو سامنے آئی ہے ،ایل ایس ایم اور خدمات کے شعبوں کی شرح نمو پچھلے 4 سالوں کی بلند ترین سطحوں پر ہے،معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو معیشت کیلئے سنگ میل ہے۔

فی کس آمدن پچھلے سال کے 1751ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہوگئی ہے،پچھلے2سالوں میں پالیسی ریٹ میں تاریخی کمی واقع ہوئی ہے،یہ شرح 22 فیصد سے کم ہو کر ساڑھے گیارہ فیصد فیصد پر آگئی ہے،ترسیلات زر بھی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مالی سال کے پہلے11 ماہ میں ترسیلات زر کا حجم 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ،سال بھر کی ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی جو تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔
صرف تین سالوں ٹیکسوں کی شرح میں تقریباً 2 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے،ان اقدامات کے نتائج ہمارے مالیاتی استحکام میں بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔
نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے تجویزہے،وفاقی حکومت کی خالص آمدنی کا تخمینہ 11 ہزار 751 ارب روپے مختص ہے،وفاقی نان ٹیکس ریونیو کے ذریعے 5 ہزار 336 ارب روپے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

ایف بی آر کے ٹیکس محصولات کا مجموعی تخمینہ 15 ہزار 264 ارب روپے تجویز ہے،وفاقی محصولات میں سے صوبوں کیلئے 8 ہزار 848 ارب روپے روپے مختص کئے گئے ہیں ۔
وفاقی اور صوبائی تقسیم کیلئے 13 ہزار 350 ارب روپے کی رقم محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، ملکی دفاع کوناقابل تسخیربنانے کیلئےدفاعی بجٹ میں 3ہزارارب روپے رکھے گئے ہیں۔
ریٹائرڈملازمین کی پنشن کےاخراجات کیلئے ایک ہزار169ارب روپے تجویز کئے گئے ،سول انتظامیہ کوچلانےکےاخراجات کی مدمیں 1 ہزار 71 ارب روپے مختص ہونگے۔

بجلی اوردیگرشعبوں کی سبسڈیزکیلئے1ہزار 91 ارب روپے مختص کئے گئے،وفاق کےترقیاتی بجٹ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کیلئے1ہزار 100 ارب روپے تجویزہے۔
بی آئی ایس پی، آزاد کشمیر، جی بی اور فاٹا اضلاع کی گرانٹس کیلئے 2680 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،پیٹرول اورڈیزل پر ریلیف کیلئے 128 ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان کیا گیا ہے۔خاندانی منصوبہ بندی کےتحت مانع حمل اشیاپرعائد ٹیکس ختم کرنے کی تجویزہے۔
بےنظیرانکم سپورٹ پروگرام کادائرہ کارایک کروڑ20لاکھ خاندانوں تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،اگلےمالی سال میں بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے838 ارب روپے مختص کردئیے گئے۔
وزیراعظم ’’اپنا گھرہاؤسنگ اسکیم‘‘ کیلئے بجٹ میں 71 ارب روپے رکھے گئے،برآمدات کےفروغ کیلئے’’ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم‘‘کی مدمیں 88ارب روپےتجویز ہے۔
کینسراوردیگرموذی امراض کی ادویات کے100سےزائدخام مال پرکسٹمزڈیوٹی ختم کردی گئی ،زرخیزی منصوبے کےتحت چھوٹےکسانوں کو300ارب روپےکےڈیجیٹل قرضے ملیں گے۔
چھوٹےدکانداروں کیلئے انکم ٹیکس میں آسان ’’فکسڈ ٹیکس سسٹم‘‘متعارف کرانے کی تجویزہے،آزادجموں وکشمیرکیلئے146ارب اورگلگت بلتستان کیلئے88 ارب روپے مختص ہے،خیبرپختونخوا کےنئےضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی کاموں کیلئے 95 ارب روپے تجویزہے۔
حکومت نے تنخواہ دار طبقے کیلئے بھی ریلیف کا اعلان کر دیا۔سالانہ 22 سے 32 لاکھ روپے کمانے والوں کیلئے شرح 23 سے کم کر کے 20 فیصد مقرر کردی گئی۔
سالانہ 32 سے 41 لاکھ روپے تنخواہ پر ٹیکس 30 سے کم کر کے 25 فیصد،سالانہ 41 سے 56 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس 35 سے کم کر کے 29 فیصد ،سالانہ56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے پر ٹیکس 35 سے کم کر کے 32 فیصد مقرر کردیاگیا۔
حکومت نے 6 سلیبز پر سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، 15کروڑ سے 50 کروڑ روپے سالانہ کمانے والوں پر 1 سے 7 فیصد سپر ٹیکس عائد تھا۔50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح 10 سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی۔
فائلرز کی جائیداد کی فروخت پر ٹیکس 5.5 فیصد سے 2.75 فیصد کر دیا گیا،اس اقدام سے ملک میں تعمیراتی سرگرمیاں بڑھیں گی،سیمنٹ ،لوہا،شیشہ، ٹمبر،پینٹس،ٹائلز ،ہارڈویئر سمیت 40 صنعتیں چلیں گی۔

نئے بجٹ میں برآمدی شعبے کیلئے بھی ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے،آئی ٹی برآمدات کی آمدنی پر 0.25 فیصد رعایت میں 3 سال کی توسیع کردی گئی ، 30جون 2029 تک ریلیف ملنے سے آئی ٹی برآمد ات بڑھیں گی۔
ڈیبٹ ،کریڈٹ کارڈ کی بین الاقوامی ٹرانزیکشن پر ٹیکس 5 فیصد سے 0.5 فیصد مقررکردیا گیا،غیر ملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس کے خاتمے کی تجویز ہے۔

دفاعی بجٹ کیلئے 3ہزار10 ارب90 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،دفاع کے انتظامی امور کیلئے 10ارب 90کروڑ روپے رکھنے کی تجویزہے۔

دفاعی ملازمین کے اخراجات کیلئے 966 ارب 54 کروڑ 80لاکھ روپے،دفاع کے آپریٹنگ اخراجات کیلئے 743 ارب 46 کروڑ 20 لاکھ روپے،فزیکل اثاثہ جات کیلئے 925 ارب 83 کروڑ 30 لاکھ ،دفاع کےسول ورک کیلئے 363 ارب 15 کروڑ 80 لاکھ مختص کرنے کی تجویزہے۔
وزیر خزانہ کا بجٹ تقریر میں مزید کہنا تھا کہ برآمدات کے شعبے میں سپر ٹیکس مکمل ختم کیا جارہاہے،ایس ای سی پی میں 39 ہزار نئی کمپنیوں کا اندراج ہوا ہے، دنیا کی بڑی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں،حکومتی ٹیکنالوجی زون میں 250 سے زائد نئی کمپنیوں نے کاروبار شروع کیا۔
ٹیکنالوجی زونز کے ذریعے 25 ہزار سے زائد ٹیک پروفیشنلز کو روزگار ملا،گزشتہ سال قوم سے التوا کا شکار نجکاری ایجنڈا پورا کرنے کا وعدہ کیا تھا،آج ایوان کو بتاتے ہوئے خوشی ہے کہ نجکاری کا وعدہ حقیقت بن چکا ہے،ہم نے فرسٹ وومن بینک کی نجکاری سے آغاز کیا۔
23ستمبر 2025 کو شفاف نیلامی سے پی آئی اے نجی شعبے کے حوالے کی گئی،پی آئی اے 185 ارب روپے کے عوض نجی شعبے کے حوالے کی گئی ہے،5سالہ منصوبے کے تحت کئی حکومتی اداروں کو نجی شعبہ کے حوالے کیا جائے گا۔
نجکاری میں ڈسکوز، جینکوز، بینک، انشورنس کمپنیاں اور ہوائی اڈے شامل ہیں،3ڈسکوز کے پہلے بیچ کی نجکاری کیلئے اظہار دلچسپی کے نوٹس جاری ہو چکے۔
قومی اسمبلی کیلئے 17 ارب روپے سے زائد بجٹ تجویز، تنخواہوں اور مراعات پر اربوں خرچ ہونگے
ایف بی آر میں اصلاحات کے اب تک کے نتائج بڑے حوصلہ افزارہے ہیں،مالی سال 23-2022میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولی 7200 ارب روپے تھی،ٹیکس وصولی اگلے 3 سال میں دو گنا ہو کر موجودہ مالی سال 13 ہزار ارب تک پہنچ جائے گی۔ ٹیکس وصولی میں اس اضافے کی نظیر پاکستان کی حالیہ تاریخ میں کم ملتی ہے۔یہ صرف محصولات کا اضافہ نہیں بلکہ ٹیکس نظام میں تبدیلی ہے۔
ٹیکس نظام میں اس تبدیلی کی قیادت خود وزیر اعظم شہباز شریف کر رہے ہیں،ٹیکس نظام کی تبدیلی کے ٹھوس ثمرات سامنے آ رہے ہیں،پروڈکشن مانیٹرنگ نظام میں ڈیش بورڈز، ویڈیو اینالیٹکس اور الرٹس شامل ہیں۔
پروڈکشن مانیٹرنگ کا نظام 27 سیمنٹ فیکٹریوں اور 75 شوگر ملوں پر نافذ ہو چکا،صرف سیمنٹ اور شوگر ملوں سے سالانہ 61 ارب روپے اضافی ٹیکس متوقع ہے۔
مصنوعی ذہانت کا نظام 840 سے زائد ہائی رسک کیسز کی نشاندہی کر چکا،ان ہائی رسک کیسز کا متوقع ٹیکس امپیکٹ تقریبا 34 ارب روپے ہے،فیس لیس کسٹمز سے امپورٹر اور کسٹم افسر کا براہ راست رابطہ کم کیا گیا۔
دفاعی بجٹ میں 18 فیصد اضافہ، 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
فیس لیس کسٹمز سے محصولات بڑھے، ہراسانی اور رشوت کے امکانات کم ہوئے،پروڈکشن مانیٹرنگ نظام ٹیکسٹائل، مشروبات، آئرن اور گھی کے شعبوں تک پھیلے گا،پروڈکشن مانیٹرنگ کی توسیع خوردنی تیل، ٹائرز، پیپر اور بورڈ کے شعبوں تک ہوگی، یہ توسیع ملک کی منتظم صنعت کے ایک بڑے حصے کا احاطہ کرے گی۔
ملکی آبادی کا 67 فیصد حصہ 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے،پی ایم یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام سے 5 لاکھ 15 ہزار نوجوانوں کو فنی تربیت دی گئی،فنی تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں میں سے 53 فیصد ملازمتیں حاصل کر چکے ہیں۔
پی ایم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون ا سکیم کے تحت 258 ارب روپے کی رقم تقسیم کی گئی،لون ا سکیم کے ذریعے اب تک 5 لاکھ 34 ہزار سے زائد نوجوان مستفید ہوئے،پی ایم اسپورٹس ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے تحت 19 کھیلوں میں ٹیلنٹ ہنٹ جاری ہے۔
پی ایس ایل کے ماڈل پر ایک خصوصی ہاکی لیگ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے،حکومت نے ایکسپورٹ انکم پر عائد 0.25 فیصد ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج ختم کر دیا،ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت مارک اپ کی شرح 19 فیصد سے کم کر کے 4.5 فیصد کر دی گئی۔
بجٹ میں آئی ٹی برآمدات پر ٹیکس رعایت برقرار رکھنے کی تجویز
ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کے تحت سہولت کی مدت 9 ماہ سے بڑھا کر 18 ماہ کر دی گئی،نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت پہلے ہی سال 7500 ٹیرف لائنز پر ٹیرف میں کمی کی گئی،ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دی گئی،ڈیوٹی فری امپورٹ سے مشینری کی درآمد میں 21 فیصد اضافہ ہوا۔کاروباری طبقے کو 120 ارب روپے سے زائد کا فائدہ منتقل کیا گیا۔
وفاقی وزیر کا بجٹ تقریرمیں مزید کہنا تھا کہ مالی سال26-2025 میں انرجی سسبڈی کی مد میں 143 ارب روپے سے زائد کی بچت ہوئی،آئی پی پیز سے مذاکرات کے نتیجے میں تقریباً 3.7 ٹریلین روپے کی بچت کے اقدامات کیے گئے۔
بجلی کی مسابقتی مارکیٹ “CTBCM” کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے، ستمبر 2026 میں بجلی کی پہلی مسابقتی نیلامی منعقد ہو گی،نیلامی میں 800 میگاواٹ بجلی کا کاروبار مارکیٹ فریم ورک کے تحت ہو گا۔
جنوری 2027 سے پاکستان میں ڈائریکٹ سبسڈی میکنزم کا آغاز کیا جائے گا،ڈائریکٹ سبسڈی میکنزم کیلئے تمام سبسڈائزڈ صارفین کی رجسٹریشن کی جا رہی ہے،موجودہ مالی سال میں بجلی کے شعبے میں سرکولر ڈیٹ کی نیٹ زیرو اکملیشن حاصل کی گئی۔
سرکلر ڈیٹ کے اسٹاک میں 1225 ارب روپے کی لون سیٹلمنٹ پر پیشرفت ہوئی،قطر اور اٹلی کے طویل مدتی معاہدوں سے سال 2026 کیلئے 35 ایل این جی کارگوز کم کیے گئے،ایل این جی معاہدوں پر دوبارہ بات چیت سے 1.2 ارب امریکی ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت ہوئی۔
گزشتہ 11 مہینوں میں صارفین کے گیس کے بل میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا،مارچ 2026 کے بعد مقامی کمپنیوں نے قومی نظام میں 100 mmcfd اضافی گیس شامل کی،ملک کے 10 کھاد کارخانوں کو گیس کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی گئی۔
پاکستان نے 20 سال بعد 24 آف شور لائسنسنگ بلاکس بین الاقوامی کمپنیوں کو الاٹ کیے،ترکیہ کی قومی تیل کمپنی TPAO نے آف شور بلاکس میں شراکت داری کی ہے،مالی سال 26-2025 کے دوران E&P شعبے میں سرمایہ کاری 1 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے،اس عرصے میں 17 نئی تیل اور گیس کی دریافتیں ہوئیں۔
تیل و گیس کی دریافتوں سے 108 mmcfd گیس اور 16 ہزار بیرل یومیہ تیل کا اضافہ ہوا،پروڈکشن میں اضافے سے مزید 229 mmcfd گیس اور 13 ہزار بیرل تیل نظام میں شامل ہوا،معدنیات کے شعبے کا فلیگ شپ منصوبہ “ریکوڈک” اہم سنگ میل عبور کر چکا ہے۔
آئی ٹی شعبے کی برآمدات 20 فیصد سالانہ شرح نمو سے بڑھ رہی ہیں،اس سال آئی ٹی برآمدات 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے،اس سال مارچ میں 5G سپیکٹرم کی کامیاب نیلامی کی گئی،کامیاب نیلامی کے بعد ملک کے 5 شہروں میں 5G سروسز شروع ہو چکی ہیں۔
حکومت اور پیپلز پارٹی میں معاملات طے ہو گئے، بلاول بھٹو بجٹ اجلاس میں شریک
رائٹ آف وے چارجز ختم کرنے سے اب 50 لاکھ گھروں میں فائبر لائنز دستیاب ہیں،ٹیلی کام ٹاورز کی فائبرائزیشن 14 سے بڑھ کر 18 فیصد ہو گئی ہے۔
حکومت نے پاکستان کی پہلی نیشنل ارٹیفیشل انٹیلیجنس پالیسی کی منظوری دے دی،گزشتہ ایک سال میں 10 لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی اور اے آئی کی مہارتوں میں تربیت دی گئی،ڈیجیٹل نیشنل پاکستان ایکٹ کے تحت نیشنل ڈیجیٹل آئی ڈی کا منصوبہ شروع ہو چکا ہے۔
نیشنل ڈیٹا ایکسچینج لیئر اور اوپن ڈیٹا ایکو سسٹم جیسے منصوبے شروع ہو چکے ہیں،ملکی قرض ڈیبتھ ٹو جی ڈی پی ریشو 2023 میں 75 فیصد سے کم ہو کر 68.5 فیصد پر آ گیا،حکومت نے گزشتہ دو سالوں میں 4,900 ارب روپے کا قرض قبل از وقت واپس یا تبدیل کیا۔
مقامی قرض کا ایوریج ٹائم ٹو میچورٹی مئی 2026 میں بڑھ کر 3.8 سال ہو گیا ہے،ایوریج ٹائم ٹو میچورٹی بڑھنے سے ری فنانسنگ کا خطرہ کم ہوا ہے۔
ٹیلی کام کمپنیوں کے ڈیجیٹل والٹس سے عوام کو حکومتی بانڈز میں سرمایہ کاری کا موقع ملے گا،ایس آئی ایف سی نے گزشتہ ایک سال میں 12 مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو سہولت دی،ایس آئی ایف سی کے تحت اسٹیل ملز کی 6,860 ایکڑ اراضی کو اقتصادی زون کے طور پر فعال کر دیا۔
پاکستان ریلویز اور حکومت سندھ کی مشترکہ معاونت سے تھر کول ریلوے منصوبہ شروع کیا گیا،سپلائی chain کی لاگت کم کرنے کے لیے ویئر ہاؤسنگ کے شعبے کو صنعت کا درجہ دے دیا گیا، بجٹ 27-2026 کی ترجیحات میں پیداواری صلاحیت بڑھانا اور برآمدات کو فروغ دینا شامل ہےْ
بجٹ کی ترجیحات میں زراعت کی ترقی اور آئی ٹی شعبہ شامل ہیں،اگلے سال ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے کے بجائے انفورسمنٹ سے آمدن بڑھائی جائے گی۔
