سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور میں تین پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث مجرم کی نظرثانی درخواست خارج کر دی ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملہ دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے اور سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بنانا ریاست کی رٹ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانا محض ذاتی دشمنی نہیں بلکہ دہشتگردی تصور کی جائے گی، عدالت کے مطابق مجرم پر دورانِ ڈیوٹی پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہو چکا ہے۔
پُرامن اور متحد معاشرے کا قیام حکومت کی ترجیح ہے، وزیراعظم
فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو تین بار سزائے موت سنائی تھی تاہم سپریم کورٹ نے اپنے پہلے فیصلے میں سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔
یہ تحریری فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم کی جانب سے جاری کیا گیا۔
