وفاقی آئینی عدالت نے کراچی کے بلڈرز اور تعمیراتی شعبے کے لیے ایک بڑا فیصلہ سناتے ہوئے رہائشی پلاٹوں کی کمرشل کیٹیگری میں تبدیلی پر عائد برسوں پرانی پابندی ختم کر دی ہے۔
عدالت نے پلاٹوں کی کیٹیگری تبدیل کرنے سے متعلق سابقہ عدالتی فیصلہ واپس لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب قانونی طریقہ کار کے تحت رہائشی پلاٹوں کو کمرشل میں تبدیل کیا جا سکے گا۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت نے کراچی میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق کیس کو نمٹاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ عدالت اب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) سمیت کسی بھی ادارے کے انتظامی کام میں مداخلت نہیں کرے گی۔ تاہم، عدالت نے یہ اہم شرط برقرار رکھی ہے کہ پارکس، ہسپتالوں، کھیل کے میدانوں اور دیگر عوامی مقامات کی کیٹیگری کسی صورت تبدیل نہیں کی جا سکے گی اور یہ زمینیں صرف عوامی مقاصد کے لیے ہی استعمال ہوں گی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ازخود نوٹس کا اختیار اب ختم ہو چکا ہے، لہٰذا اگر بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو اس کے لیے قانون پہلے سے موجود ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے ہدایت کی کہ اگر کوئی ادارہ قانون توڑ رہا ہے تو متعلقہ فورم یا ہائیکورٹ سے رجوع کیا جائے، اور اگر وہاں سے دادرسی نہ ہو تو عدالت میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔
جسٹس ارشد حسین نے کہا کہ عدالت کا کام قانون بنانا نہیں بلکہ عمل درآمد کروانا ہے، اور اگر کوئی افسر قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
