وفاقی وزیر طارق فضل چودہدری نے کہا ہے کہ اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینا حکومت کی ذمہ داری ہے اور بجٹ سازی کے عمل میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم جیسی اتحادی جماعتوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ہم نیوز کے پروگرام “فیصلہ آپ کا” میں گفتگو کرتے ہوئے نےطارق فضل چوہدری نے کہا کہ ایم کیو ایم ہمیشہ بجٹ کے موقع پراپنا متبادل بجٹ لاتی ہے اور اس بار بھی ان کی جانب سے بجٹ سے متعلق تجاویز آئیں گی۔
وفاقی وزیرنے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ جتنی تجاویز قابل عمل ہوں انہیں بجٹ میں شامل کیا جائے تاکہ مشترکہ حکمت عملی کے تحت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے، حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ عوام پر کم سے کم مالی بوجھ ڈالا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ بجٹ پیش کرنے کی تاریخ طے کرنے سے پہلے اتحادیوں سے مشاورت کی جاتی ہے اور اس بار بھی یہ عمل مکمل کیا گیا تھا ابتدا میں توقع تھی کہ 5 تاریخ تک مشاورتی عمل مکمل ہو جائے گا تاہم اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 تاریخ کو پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق 30 جون سے پہلے بجٹ کی منظوری ضروری ہے، ورنہ قومی خزانے سے اخراجات کی ادائیگی متاثر ہو سکتی ہے۔
ٹیکس نیٹ بڑھانے اور بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات کیے جارہے ہیں، وزیراعظم
انہوں نے مزید کہا کہ وفاق کا یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی صوبے کے فنڈز روکے، اور آئینی تقاضوں کے مطابق تمام معاملات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت متعلقہ حصے کی ادائیگی کی گئی ہے اور کسی صوبے کے حقوق متاثر نہیں کیے جا رہے۔
انہوں نے جموں و کشمیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 نکات زیر غور آئے ہیں جبکہ مہاجرین کی 12 نشستوں سے متعلق ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے، گزشتہ اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا کہ 12 افراد تنہا اس معاملے پر فیصلہ نہیں کر سکتے، اسی لیے آل پارٹیز کانفرنس بھی منعقد کی گئی۔
طارق فضل چودھری نے واضح کیا کہ مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ صرف سیاسی نہیں بلکہ آئینی نوعیت کا ہے اور اس کا تعلق کشمیر کاز سے جڑا ہوا ہے۔
دوسری جانب پیپلزپارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے کہا کہ ان کے تحفظات صرف بجٹ کے موقع پر نہیں بلکہ کئی دنوں سے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق بھی مختلف باتیں زیر بحث ہیں اور پیپلزپارٹی صوبوں کے اختیارات میں کسی بھی قسم کی کمی کو قبول نہیں کرے گی۔
نفیسہ شاہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی صوبوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرولیم لیوی وفاقی حکومت وصول کرتی ہے اور اس معاملے پر بھی غور و خوض جاری ہے۔
