واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیٹرول پر وفاقی ٹیکس عارضی طور پر معطل کرنے کا عندیہ دے دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ 18 سینٹ فی گیلن وفاقی ٹیکس کو مخصوص مدت کے لیے معطل کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ عوام کو مہنگائی اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے ریلیف دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر نرمی دکھائی ہے لیکن یہ کافی نہیں۔ ایران نے بتایا کہ امریکا کو ایران کی جوہری تنصیبات سے نیوکلئیر ڈسٹ خود نکالنا ہو گا۔ یہ اتنی گہرائی میں دفن ہے کہ ایران اس تک نہیں پہنچ سکتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پراجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اور اس بار پراجیکٹ فریڈم زیادہ شدت سے شروع کیا جائے گا۔ جرنیلوں کا ایک بڑا گروہ ایران کے ساتھ تنازع میں اگلے اقدامات کے لیے میرے حکم کا انتظار کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر کا ردعمل کوئی اہمیت نہیں رکھتا، ایران
انہوں نے کہا کہ ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ میرے پاس ایران کے حوالے سے ایک پلان ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے مجھ پر دباؤ ہے لیکن مجھ پر ایران ڈیل کے حوالے سے کوئی دباؤ نہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے پاس کچھ نہیں بچا۔ ان کی نیوی اور فضائیہ نہیں ہے۔
