امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے امکانات موجود ہیں، ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑی قیمت ادا نہیں کی۔
ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے، آبنائے ہرمز کی ناکا بندی انتہائی دوستانہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے ایران سے ڈیل کی تجویز سے آگاہ کر دیا گیا ہے، مجھے اس تجویز کے اصل الفاظ سے جلد آگاہ کیا جائے گا، جلد ہی جائزہ لوں گا، یہ سوچ نہیں سکتا کہ ایران کی تجاویز قابل قبول ہوں گی۔
ہم ایران کے معاملے کو جلدی ختم نہیں کریں گے تاکہ مسئلہ دوبارہ پیدا نہ ہو، ٹرمپ
ٹرمپ نے کہا کہ جرمنی سے 5 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکاروں کو نکال رہے ہیں۔۔
دوسری جانب عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے بعد اپنے نئے ہدف کے طور پر کیوبا کا نام لیا ہے اور امریکی جنگی پالیسی پر کھل کر گفتگو کی ہے۔
فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران جنگ کے بعد واپسی پر امریکی بحریہ کا ایک بڑا طیارہ بردار جہاز کیوبا کے ساحل کے قریب تعینات کیا جا سکتا ہے۔
فوج ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے، ایرانی آرمی چیف کا دوٹوک مؤقف
ان کا کہنا تھا کہ جنگی بحری بیڑے کی تعیناتی کی وجہ سے کیوبا خود ہی ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوجائے گا اور امریکا اس ملک کا کنٹرول سنبھال لے گا۔ یہ سب بہت جلد ممکن ہے۔
