ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم ایران کے معاملے کو جلدی ختم نہیں کریں گے تاکہ مسئلہ دوبارہ پیدا نہ ہو۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خارجہ پالیسی، داخلی سلامتی، معیشت اور سیاسی مخالفین کے حوالے سے جارحانہ مؤقف اختیار کیا اور اپنی حکومت کی پالیسیوں کا بھرپور دفاع کیا۔
ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے غیرمعمولی سخت بیانات دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس معاملے کو جلدی ختم نہیں کرے گا تاکہ مسئلہ دوبارہ جنم نہ لے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی-2 بمبار طیاروں کے ذریعے ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکا، ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کو نہ روکتے تو اسرائیل اور یورپ ٹکڑوں میں بٹ چکے ہوتے، ایران کے پاس نہ بحریہ ہے، نہ فضائیہ، نہ قیادت رہی ہے، ایران کی پہلی اور دوسری درجے کی قیادت ختم ہو چکی ہے، میں ایران کے بارے میں بات کرنا پسند نہیں کرتا جب تک وہاں کام مکمل نہ ہو جائے، یہ کام پچھلے صدور کے دور میں ہو جانا چاہیے تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے 159 بحری جہاز تباہ کر دیے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں تقریباً 400 جہاز رکے ہوئے ہیں اور اگر یہ باہر آ جائیں تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔
ٹرمپ نے غیرقانونی امیگریشن کے خلاف اپنی سخت پالیسی کو دہراتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 11 ماہ میں غیرقانونی افراد کی آمد “صفر” ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔
انہوں نے سابق صدر جو بائیڈن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں جرائم، خاص طور پر قتل کی شرح، بلند ترین سطح پر تھی، جبکہ اب یہ کم ترین سطح پر آ چکی ہے۔
امریکا نے ایران پر شدید اور تیز حملوں کا منصوبہ بنا لیا
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی سخت پالیسیوں اور “دھمکیوں” کے باعث ادویات کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اس وقت “سنہری دور” سے گزر رہا ہے اور عالمی سطح پر اس کا وقار بحال ہو رہا ہے۔
انہوں نے افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران چھوڑے گئے اسلحے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ پچھلی حکومت کی بڑی ناکامی تھی۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر ڈیموکریٹک رہنماؤں پر سخت تنقید کی، خاص طور پر کانگریس رکن الہان عمر کو نشانہ بناتے ہوئے ان پر فراڈ کے الزامات لگائے اور کہا کہ ایسے افراد کو ملک سے نکال دینا چاہیے۔ ان کے ان بیانات کو متنازع اور شدید تنقید کا سامنا ہو سکتا ہے۔
