کرشمہ کپور کے بچوں کو ان کے مرحوم والد سنجے کپور کی جائیداد کے تنازع میں اہم عبوری ریلیف مل گیا۔
عدالت نے عبوری حکم میں ہدایت دی کہ مقدمے کے دوران جائیداد کی موجودہ حیثیت برقرار رکھی جائے تاکہ اثاثوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ حکم کے تحت اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع کرانا لازم قرار دیا گیا ہے جبکہ بیرونِ ملک بینک اکاؤنٹس اور کرپٹو اثاثوں کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
یہ درخواست کرشمہ کپور اور سنجے کپور کے بچوں کی جانب سے دائر کی گئی تھی، اور وہ اس وصیت کو چیلنج کر رہے ہیں جس میں پریا کپور کو واحد وارث قرار دیا گیا ہے۔
بچوں کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ وصیت میں کئی “مشکوک پہلو” موجود ہیں، جن میں رجسٹریشن کا نہ ہونا، مبہم زبان اور تیاری کے حالات شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ پریا کپور خود اس وصیت کی پیش کنندہ بھی ہیں اور واحد فائدہ اٹھانے والی بھی، اس لیے معاملے کی سخت عدالتی جانچ ضروری ہے۔
یہ تنازع ایک پیچیدہ خاندانی پس منظر کا حصہ ہے۔ کرشمہ کپور اور سنجے کپور کی شادی 2003 میں ہوئی تھی، تاہم بعد ازاں تعلقات خراب ہونے پر 2016 میں طویل قانونی لڑائی کے بعد طلاق ہو گئی۔ بعد میں سنجے کپور نے پریا سچدیو سے شادی کی۔
سنجے کپور کے 12 جون کو انتقال کے بعد ان کی تقریباً 30 ہزار کروڑ روپے مالیت کی جائیداد تنازع کا مرکز بن گئی۔ رپورٹس کے مطابق وہ انگلینڈ میں ایک پولو میچ کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔
