جرمنی نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز بند رہی تو دنیا کو تیل اور گیس کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جرمن چانسلر کے مطابق عالمی توانائی منڈیوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف سپلائی چین کو متاثر کرے گی بلکہ اس کے اثرات یورپ سمیت دنیا بھر میں قیمتوں کے شدید اتار چڑھاؤ کی صورت میں سامنے آئیں گے۔
جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ اگرچہ یورپ کو تیل اور گیس کی سپلائی کا بڑا حصہ متبادل راستوں سے حاصل ہوتا ہے، تاہم آبنائے ہرمز عالمی توانائی ترسیل میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ایران خلیج فارس میں نیا سیکیورٹی نظام تشکیل دیگا، سپریم لیڈر
ان کے مطابق جرمنی کے پاس تیل اور گیس کے مناسب ذخائر موجود ہیں، لیکن عالمی منڈی میں کسی بھی قلت کا اثربالواسطہ طور پرملکی معیشت پر بھی پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح یہی ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کیلئے ہرممکن سفارتی کوششیں کی جائیں تاکہ عالمی توانائی بحران سے بچا جا سکے، صورتحال صرف توانائی ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے استحکام کیلئے بھی انتہائی اہم ہے۔
