بنگلا دیش کے اسٹار آل راؤنڈر شکیب الحسن( Shakib Al Hasan) نے کہا ہے کہ عبوری حکومت کی جانب سے ٹیم کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت نہ دینا ایک بڑی غلطی تھی، جس سے ملک کی کرکٹ کو شدید نقصان پہنچا۔
ممبئی میں ای یو ٹی 20 بیلجیئم ایونٹ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شکیب الحسن نے کہا کہ بنگلا دیش ایک کرکٹ سے محبت کرنے والا ملک ہے اور ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ میں ٹیم کی عدم شرکت شائقین کیلئے مایوس کن رہی۔ انہوں نے کہا کہ 1999 کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب بنگلا دیش کسی ورلڈ کپ کا حصہ نہیں بنا، جو کہ ایک بڑا خلا ہے۔
شکیب الحسن نے ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لے لیا
واضح رہے کہ آئی سی سی ( International Cricket Council )نے بنگلا دیش کی جگہ سکاٹ لینڈ( Scotland )کو ایونٹ میں شامل کیا تھا، جب حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے باعث ٹیم کو بھارت جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
یہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوگئی جب بھارتی کرکٹ بورڈ( Board of Control for Cricket in India )نے بنگلا دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان(Mustafizur Rahman) کو آئی پی ایل سے باہر کر دیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی۔
بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے میچز کو سری لنکا منتقل کرنے کی تجویز بھی دی، تاہم آئی سی سی بورڈ نے اسے مسترد کر دیا۔
شکیب الحسن نے امید ظاہر کی کہ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ ( Bangladesh Cricket Board) اور بھارتی کرکٹ بورڈ( Board of Control for Cricket in India) کے درمیان تعلقات جلد بہتر ہو جائیں گے، خاص طور پر اگر بھارت اور بنگلا دیش کے درمیان آئندہ ماہ سیریز ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹ شکیب الحسن کے گلے پڑ گئی
انہوں نے سابق کپتان تمیم اقبال( Tamim Iqbal )کو بورڈ صدر بننے پر خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ طویل مدتی منصوبہ بندی کے ذریعے بنگلا دیش کرکٹ کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ شکیب الحسن اکتوبر 2024 کے بعد سے انٹرنیشنل کرکٹ سے دور ہیں اور اس وقت امریکا میں مقیم ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ وطن واپس آ کر ایک مکمل سیریز کھیلنے کے بعد شاندار انداز میں اپنے کیریئر کا اختتام کرنا چاہتے ہیں۔
