امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور اعلیٰ فوجی کمانڈر جنرل ڈین کین نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال پر تفصیلی پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی ایک “بہتر معاہدہ” کرنے کا موقع موجود ہے، تاہم صورتحال تیزی سے سنگین ہو رہی ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق آبنائے ہرمز میں امریکی اور اتحادی اقدامات کے نتیجے میں اب تک 34 جہازوں کو واپس موڑ دیا گیا ہے، جبکہ بحری ناکہ بندی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، آئندہ چند دنوں میں ایک اور بیڑا اس کارروائی میں شامل کیا جائے گا، جس سے خطے میں دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔
پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے “ڈارک فلیٹ” کے دو جہازوں کو قبضے میں لے لیا گیا ہے اور امریکہ عالمی شپنگ پر مؤثر کنٹرول رکھتا ہے، صورتحال صرف ایران تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر پھیل رہے ہیں۔
لبنان میں اسرائیلی حملے میں یو این امن مشن کا زخمی ایک اور اہلکار جاں بحق
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازوں اور کشتیوں کو تباہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ امریکہ اس خطے پر اپنی توانائی کے انحصار میں نہیں ہے اور اسے آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں، جبکہ یورپ اور ایشیائی ممالک اس راستے پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
پیٹ ہیگستھ نے یورپی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “مفت خوری کا وقت ختم ہو چکا ہے” اور اتحادی تعلقات دو طرفہ ذمہ داریوں پر مبنی ہوتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ضرورت محسوس کی جائے گی، اور ایران کی جانب سے مزید بارودی سرنگیں بچھانا جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔
انہوں نے پوپ کی جانب سے کی گئی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “پوپ اپنا کام کریں، یہ زیادہ ٹھیک ہے”۔ بریفنگ میں مجموعی طور پر امریکہ نے ایران پر دباؤ بڑھانے اور خطے میں اپنی بحری حکمت عملی مزید سخت کرنے کا عندیہ دیا۔
