اسلام آباد میں سینیٹ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں انتخابات پرامن ماحول میں منعقد ہوئے اور انتخابی عمل مجموعی طور پر شفاف اور منظم رہا۔
انہوں نے بتایا کہ جن حلقوں سے شکایات موصول ہوئی ہیں وہاں 15 جون کو ری پولنگ کرائی جائے گی تاکہ انتخابی عمل پر کسی قسم کے اعتراضات باقی نہ رہیں۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں سرگرم عوامی ایکشن کمیٹی کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں، تاہم حکومت نے عوامی مسائل کے حل کے لئے اس کے ساتھ مذاکرات کیے۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے نتیجے میں آزاد کشمیر میں بجلی کی قیمت 3 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی اور متعدد عوامی مطالبات تسلیم کیے گئے۔
معیشت مستحکم، روزگار اور برآمدات میں اضافے پر توجہ دینا ہوگی، وزیراعظم
انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت تھی کہ جو مطالبات عوامی اور سماجی فلاح سے متعلق ہیں انہیں قبول کیا جائے۔
رانا ثنااللہ کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات میں سے 37 پر تحریری معاہدہ کیا گیا، جبکہ مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے پیش کیے گئے تین مطالبات بھی تسلیم کر لیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ایک مطالبہ یہ تھا کہ مہاجرین کی 12 مخصوص نشستیں ختم کر دی جائیں، لیکن ایسا کرنے سے آزاد کشمیر سے باہر مقیم مہاجرین کی نمائندگی متاثر ہوگی اگرمہاجرین کی نمائندگی ختم ہو گئی تو ان کی سیاسی اور جمہوری جدوجہد بھی کمزور پڑ جائے گی۔
رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے جنوری میں ہی 9 جون کی کال دی تھی اور ان کا اصل مقصد انتخابات میں رکاوٹ ڈالنا تھا، ان کے بقول اگر انتخابات کامیابی سے مکمل ہو جاتے ہیں تو اس تحریک کا جواز باقی نہیں رہے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں، بشمول پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان میں بھرپور انتخابی مہم چلائی، تاہم کسی بڑی جماعت نے انتخابی دھاندلی کے حوالے سے کوئی شکایت درج نہیں کرائی، جو انتخابی عمل پراعتماد کا مظہر ہے۔
