وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایڈز سے متاثرہ 84 ہزار لوگ رجسٹرڈ ہیں،رجسٹرڈ مریضوں میں سے 61 ہزار لوگوں تک ادویات پہنچ رہی ہیں۔
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران ملک میں بچوں میں ایچ آئی وی ایڈز کے کیسز میں اضافے پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا گیا،توجہ دلاؤ نوٹس زہرا ودود فاطمی نے پیش کیا۔
وزیر اعظم کا بڑا اقدام، ہیپاٹائٹس اور ایڈز کے خاتمے کیلئے اہم ہدایات
وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اس معاملے پر پوری توجہ ہے،تونسہ اور اسلام آباد میں کیسز کی دو خبریں آئی ہیں ، وزیراعظم نے کمیٹی بنائی۔
ایڈز لاعلاج نہیں بلکہ قابل علاج مرض ہے، دوائی لینے کے بعد انسان نارمل زندگی گزارتا ہے،ایڈز سرنجز کے غلط استعمال سے پھیلتاہے، اس پر آگاہی کی ضرورت ہے،سال 26-2025 میں 3 لاکھ 72 ہزار لوگوں کی اسکریننگ کی گئی۔
ایڈز کی روک تھام کیلئے صوبوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں،عطائی ڈاکٹروں اور اسپتالوں کو چیک کرنا صوبائی حکومت کا کام ہے،نائیٹ پارٹیز میں ڈرگز سے کتنے لوگوں کو ایڈز ہو رہا ہے، تفصیلات رکن کو دے دوں گا۔
خیبر پختونخوا میں ایڈز کے مریضوں میں تشویشناک اضافہ
صرف غلط سرنجز کے استعمال سے ہی ایڈز نہیں ہو رہا،بیرون ملک سے ایڈز لانے سے روکنے کیلئے اب ایئرپورٹس پر بھی لوگوں کو چیک کر رہے ہیں۔بہت سے لوگوں کے پاسپورٹ پر اسکریننگ کی اسٹیمپ نہیں لگی ہوتی۔
اسلام آباد میں ایڈز کے 618 کیسز ہیں، جن میں سے 408 یہاں کے رہائشی نہیں،اسلام آباد کے رہائشی 210 متاثرہ لوگوں میں بچے شامل نہیں ہیں،یہ لوگ معاشرتی خرابیوں کی وجہ سے ایڈز کا شکار ہوئے،ایک نئے قانون پر کام کر رہے ہیں۔
