زمبابوے کے فاسٹ بولر بلیسنگ موزاربانی(Blessing Muzarabani )پر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی جانب سے عائد دو سالہ پابندی کے معاملے نے نیا رخ اختیار کرلیا ہے، جہاں کھلاڑی کے ایجنٹ نے لیگ کے فیصلے کو سخت اور غیر منصفانہ قرار دے دیا ہے۔
کرک انفو کے مطابق بلیسنگ موزاربانی کے ایجنٹ Rob Humphries نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مؤقف اپنایا کہ پی ایس ایل اور کھلاڑی کے درمیان کوئی باضابطہ معاہدہ طے نہیں پایا تھا، اس لیے معاہدے کی خلاف ورزی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
کھلاڑیوں کی فٹنس بہتر بنانے کے لیے پی سی بی کا بڑا فیصلہ
ایجنٹ کے مطابق 13 فروری کو اسلام آباد یونائیٹڈ(Islamabad United )نےبلیسنگ موزاربانی سے رابطہ کیا اور انہیں 2026 پی ایس ایل کے لیے پیشکش کی گئی، جو کہ زمبابوے کرکٹ سے این او سی حاصل کرنے سے مشروط تھی۔ تاہم این او سی کے لیے باقاعدہ کنٹریکٹ ضروری ہوتا ہے، جو کھلاڑی کو فراہم ہی نہیں کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ دو ہفتے گزرنے کے باوجود کوئی تحریری معاہدہ نہیں بھیجا گیا، اسی دوران انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم Kolkata Knight Riders نے بہتر مالی پیشکش کی، جس کے بعدبلیسنگ موزاربانی نے آئی پی ایل میں شمولیت اختیار کرلی۔
ایجنٹ کا کہنا تھا کہ آپ ایسے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے جو کبھی ہوا ہی نہ ہو، جبکہ انہوں نے پی ایس ایل سے پابندی واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا اور اسے انتظامی غلطی قرار دیا۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے کہا ہے کہ ضروری شرائط پر اتفاق ہونے کے بعد تحریری یا ای میل کے ذریعے ہونے والی بات چیت بھی ایک بائنڈنگ معاہدہ تصور ہوتی ہے، اور کھلاڑی نے اس کے باوجود آئی پی ایل کو ترجیح دی۔
پی سی بی نے لاہور قلندرز کے کھلاڑی سکندر رضا کی اہلخانہ سے خصوصی ملاقات کرا دی
واضح رہے کہ بلیسنگ موزاربانی کو ابتدائی طور پر تقریباً 40 ہزار ڈالر میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے سائن کیا تھا، تاہم بعد ازاں آئی پی ایل سے تقریباً 1 لاکھ 60 ہزار ڈالر کی پیشکش نے صورتحال بدل دی۔
پی سی بی نے اس معاملے پر نظرثانی سے انکار کرتے ہوئے پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت بلیسنگ موزاربانی 2029 تک پی ایس ایل میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔
