برطانیہ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف سخت کارروائی کے دوران گذشتہ سال انشورنس کے بغیر چلائی جانے والی ایک لاکھ 60 ہزار گاڑیاں ضبط کر لی گئیں جو گزشتہ 17 برسوں میں سب سے زیادہ تعداد قرار دی جا رہی ہے۔
موٹر انشورنس بیورو کے مطابق ملک بھر میں روزانہ تقریباً تین لاکھ گاڑیاں انشورنس کے بغیر سڑکوں پر چلائی جاتی ہیں، جس کی بڑی وجہ انشورنس کی بڑھتی ہوئی لاگت بتائی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ایسے کئی “ہاٹ اسپاٹس” موجود ہیں جہاں بغیر انشورنس گاڑیوں کے باعث حادثات کی شرح زیادہ ہے، جن میں 15 میں سے 5 پوسٹ کوڈز برمنگھم کے شامل ہیں۔
مصنوعی ذہانت نوکریاں کھا گئی : اسنیپ چیٹ سے ہزاروں ملازمین برطرف
ویسٹ مڈلینڈ پولیس کی ایک کارروائی میں حالیہ آپریشن کے دوران لگژری گاڑیاں بھی پکڑی گئیں جن میں مرسڈیز، بی ایم ڈبلیو اور لیمبورگینی تک شامل تھیں۔
رپورٹس کے مطابق بغیر انشورنس گاڑیوں کے باعث ہر سال معیشت کو تقریباً ایک ارب پاؤنڈ کا نقصان ہوتا ہے، جس میں متاثرین کو دیے جانے والے معاوضے، ایمرجنسی سروسز کے اخراجات اور پیداواری صلاحیت میں کمی شامل ہے۔
مزید یہ کہ ہر 20 منٹ بعد ایک شخص ہٹ اینڈ رن حادثے کا شکار ہوتا ہے جبکہ روزانہ ایک فرد کو ایسی چوٹیں لگتی ہیں جو اس کی زندگی پر طویل اثر ڈالتی ہیں۔
موٹر انشورنس بیورو کے مطابق ان گاڑیوں کے ڈرائیوراکثردیگر جرائم میں بھی ملوث پائے جاتے ہیں، جیسے پابندی کے باوجود ڈرائیونگ، نشے کی حالت میں گاڑی چلانا، یا خراب حفاظتی حالت والی گاڑیاں استعمال کرنا۔
ویسٹ مڈلینڈ پولیس کے مطابق زیادہ ترڈرائیورخود اعتراف کرتے ہیں کہ وہ انشورنس کی قیمت برداشت نہیں کر سکتے یا ڈرائیونگ ٹیسٹ مکمل نہیں کیا ہوتا۔ ایسے ڈرائیورز کو 300 پاؤنڈ جرمانہ اور لائسنس پر 6 پینلٹی پوائنٹس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
