اسنیپ چیٹ کی پیرنٹ کمپنی اسنیپ انکارپوریٹڈ (Snap Inc) نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر تقریباً 1000 ملازمین کو فارغ کرنے اور 300 خالی اسامیوں کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس تنظیمِ نو سے 2026 کی دوسری ششماہی تک 500 ملین ڈالر کی بچت متوقع ہے۔ دسمبر 2025 تک کمپنی میں تقریباً 5,261 کل وقتی ملازمین خدمات انجام دے رہے تھے۔
اے آئی چیٹس قانونی ثبوت بن سکتی ہیں، وارننگ جاری
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر ایون اسپیگل نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ادارے کی آپریشنل حکمتِ عملی میں تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے مؤثر استعمال کی طرف پیش رفت کا عکاس ہے۔
ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ٹولز پہلے ہی چھوٹی ٹیموں کو زیادہ تیزی اور مؤثر انداز میں کام مکمل کرنے میں مدد دے رہے ہیں، جس سے اہم منصوبوں کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے دہرائے جانے والے کاموں میں کمی آئے گی، آپریشنز کی رفتار میں اضافہ ہوگا اور صارفین، شراکت داروں اور اشتہاری اداروں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں گی۔
ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس کب تک متاثر ہوسکتی ہے؟ اہم خبرسامنے آگئی
اسنیپ انکارپوریٹڈ اُن بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہو گئی ہے جنہوں نے رواں سال ملازمین میں کمی کا اعلان کیا ہے، جن میں میٹا، ایمیزون، اوریکل، گوپرو اور بلاک شامل ہیں۔
ایون اسپیگل کے مطابق حالیہ مہینوں میں کمپنی کی ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لیا گیا ہے اور سرمایہ کاری اُن شعبوں میں مرکوز کی جا رہی ہے جہاں سے طویل المدتی فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔
