اسرائیل کی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی گیلا گملیئل نے انکشاف کیا ہے کہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو آج لبنان کے صدر جوزف عون سے گفتگو کریں گے، جو کئی دہائیوں بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
العربیہ کے مطابق گیلا گملیئل نے اسرائیلی آرمی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ رابطہ برسوں بعد دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے درمیان پہلا براہ راست مکالمہ ہوگا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور خوش حالی کی جانب پیش رفت کا باعث بن سکتی ہے۔
اسرائیل نے ایک بار پھر جنوبی لبنان پر حملہ کر دیا
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پردعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل اورلبنان کے رہنما 34 برس بعد پہلی بار بات چیت کریں گے تاہم انہوں نے اس رابطے میں شامل شخصیات کی وضاحت نہیں کی۔
ٹرمپ کے بیان کے بعد بعض میڈیا رپورٹس میں ایک لبنانی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا کہ بیروت کو ایسے کسی ممکنہ رابطے کے بارے میں آگاہی نہیں۔
یاد رہے کہ حال ہی میں واشنگٹن میں امریکی سرپرستی میں اسرائیلی اور لبنانی نمائندوں کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی تھی، جسے دونوں ممالک کے درمیان اب تک کا اعلیٰ ترین سطح کا رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دریں اثناء اطلاعات ہیں کہ امریکی دباؤ کے تحت اسرائیل لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگ کو عارضی طور پر روکنے پر بھی غور کر رہا ہے، جس سے خطے میں امن کی نئی امید پیدا ہو سکتی ہے۔
