بنگلا دیش کے خلاف جاری ون ڈے سیریز کے دوسرے میچ کے دوران پاکستان کے آل راؤنڈر حسین طلعت فیلڈنگ کرتے ہوئے کندھے کی انجری کا شکار ہوگئے، جس کے بعد انہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔
حسین طلعت بنگلا دیش کی اننگز کے دوران باؤنڈری لائن کے قریب چوکا روکنے کی کوشش کر رہے تھے کہ فیلڈنگ کرتے ہوئے انجری کا شکار ہوگئے۔میچ کے دوران پیش آنے والے اس واقعے نے پاکستانی ٹیم کے کیمپ میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔
پاکستان فٹبال ٹیم کے سابق کپتان بنگلا دیش کی پارلیمنٹ کے اسپیکر منتخب
واقعے کے فوراً بعد ٹیم کے فزیو اور میڈیکل اسٹاف میدان میں پہنچے اور ان کا ابتدائی معائنہ کیا۔ ابتدائی تشخیص کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ مزید تفصیلی معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ انجری کی نوعیت کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حسین طلعت کے کندھے میں درد کی شکایت تھی جس کے باعث احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے انہیں میدان سے باہر لے جایا گیا۔ ٹیم مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ حالت کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ وہ سیریز کے آخری میچ میں شرکت کر سکیں گے یا نہیں۔
بنگلا دیش میں عیدالفطر کی 7 تعطیلات کا اعلان
واضح رہے کہ حسین طلعت پاکستان ٹیم کے اہم آل راؤنڈر سمجھے جاتے ہیں اور حالیہ میچز میں انہوں نے بیٹنگ اور فیلڈنگ دونوں شعبوں میں ٹیم کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایسے میں ان کی انجری ٹیم کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوسکتی ہے، خاص طور پر جب سیریز ایک اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
کرکٹ شائقین بھی حسین طلعت کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں اور امید ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ جلد میدان میں واپسی کریں گے۔ ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے کھلاڑی کی میڈیکل رپورٹس موصول ہونے کے بعد ان کی انجری کی نوعیت اور ممکنہ واپسی کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
