اسلام آباد میں عالمی کرکٹ جوئے کا نیٹ ورک بے نقاب، امپائر سمیت دو ملزمان گرفتار

cricket

ایف آئی اے(FIA) کے اینٹی کرپشن ونگ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں  بدھ کے روز کارروائی کرتے ہوئے عالمی کرکٹ جوئے کے ایک مبینہ نیٹ ورک میں ملوث دو افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار ملزمان میں ایک کرکٹ امپائر بھی شامل ہے، جن کے خلاف آن لائن بیٹنگ، منی لانڈرنگ اور جعل سازی سمیت متعدد الزامات پر مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

ڈبل ہیٹ ٹرک،موسیٰ خان نے قائد اعظم ٹرافی میں تاریخ رقم کردی

ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق گرفتار ملزم زاہد علی سابق سندھ پولیس اہلکار، پیشہ ور کرکٹر اور ضلعی سطح کے امپائر رہ چکے ہیں۔ وہ 2021 تک کرکٹ کھیلتے رہے اور مختلف میچوں میں امپائرنگ کے فرائض انجام دیتے رہے۔ ادارے کے مطابق زاہد علی کافی عرصے سے آن لائن کرکٹ بیٹنگ میں سرگرم تھے اور انہوں نے ’’ورلڈ کرکٹ لاء‘‘ کے نام سے ایک واٹس ایپ گروپ بھی چلایا، جس کے ذریعے وہ مبینہ طور پر بیرونِ ملک سرگرم گروہوں سے رابطے میں تھے۔

پرو پاکستانی میں شائع خبر کے مطابق ایف آئی آر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملزم کے زمبابوے، کینیا، گھانا اور دیگر افریقی ممالک کی خواتین کرکٹرز سے بھی رابطے تھے، جنہیں وہ اپنے آپ کو ایک پیشہ ور امپائر کے طور پر متعارف کرواتا تھا۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزم کے موبائل فون سے ایسی معلومات اور شواہد ملے ہیں جو اس کے بین الاقوامی جوئے کے نیٹ ورک سے تعلق کی تصدیق کرتے ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں ناقص کارکردگی کے باوجود گوتم گمبھیر کا استعفی دینے سے انکار

دوسرے گرفتار ملزم مجیب الرحمان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کے بھارت، یو اے ای، سری لنکا اور نیپال میں موجود جواریوں اور بیٹنگ ایجنٹس سے براہِ راست روابط تھے۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ رحمان کا سری لنکا پریمیئر لیگ (SLPL) کے ایک فرنچائز اونر سے بھی رابطہ رہا، جبکہ اسے ماضی میں آئی سی سی کی جانب سے نوٹس بھی موصول ہو چکا تھا۔

تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ مجیب الرحمان کا انسانی اسمگلنگ سے بھی تعلق رہا ہے اور وہ اس مافیا کے ذریعے بیٹنگ سے وابستہ افراد کو بیرونِ ملک بھجوانے میں سہولت کاری کرتا تھا۔

ایڈن مارکرام کا تاریخی کارنامہ، ٹیسٹ کرکٹ میں نیا عالمی ریکارڈ بنا ڈالا

ایف آئی اے نے یہ بھی بتایا کہ دونوں ملزمان جعلی تعلیمی اسناد تیار کرنے کے کام میں بھی ملوث رہے ہیں، جبکہ ان کے موبائل فونز سے برآمد شدہ ڈیٹا مزید تحقیقات میں مددگار ثابت ہوگا۔حکام کے مطابق کیس کی تحقیقات تیزی سے جاری ہیں۔


متعلقہ خبریں
WhatsApp