سپریم کورٹ کے 1980 کے رولز تبدیل کرکے نئے رولز 2025 جاری کر دیئے گئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ رولز 2025 کے تحت نوٹسز، احکامات، تصدیق شدہ نقول اور درخواستیں ڈیجیٹل صورت میں جاری کی جائیں گی جبکہ ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت کی اجازت ہو گی۔
آئین لوگوں کی امنگوں کا مجسمہ ، قانون سے کوئی بالاتر نہیں ، چیف جسٹس
اس کے علاوہ حلف نامے اپوسٹیل کے ذریعے تصدیق کیے جا سکیں گے، فریقین اور وکلا اپنے فون نمبر ، ای میل، پتے اور ڈیجیٹل ایپ کی تفصیلات فراہم کریں گے جبکہ بذریعہ ڈاک بھیجے گئے عدالتی دستاویزات قبول نہیں ہوں گی۔
نئے رولز میں کئی دہائیوں بعد عدالتی فیس اور وکلا و عملے کے اخراجات میں ترمیم کی گئی، فوجداری درخواستوں پر فیس معاف اور جیل سے دائر درخواستوں کی نقول مفت کر دی گئی ہیں جبکہ رجسٹرار کو اختیار ہے کہ سزائے موت کے کیسز میں ریاستی خرچ پر وکیل مقرر کرے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی بحریہ ٹائون کی جائیداد نیلامی کا کیس سننے سے معذرت
رولز کے تحت ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے امتحانات ختم کر دیئے گئے ہیں ، اب پانچ سالہ تجربہ رکھنے والے وکلا براہِ راست اے او آر بن سکیں گے، دیوانی مقدمات میں 30 دن میں سکیورٹی برائے اخراجات جمع نہ کرانے پراپیل کی اجازت ازخود ختم ہو جائے گی۔
