تہران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے تکنیکی وفد کو خیرسگالی کے طور پرایران کے دورے کی دعوت دینے پرآمادگی ظاہر کی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ دورہ آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں متوقع ہے تاہم وفد کو ایران کی جوہری تنصیبات کا معائنہ کرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی جاری، اسرائیل سب کچھ تباہ کر چکا: فلسطینی مندوب
ایرانی نائب وزیرخارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ دورے کا مقصد تعاون کیلئے ایک نیا فریم ورک طے کرنا ہے، موجودہ وعدوں پرعمل درآمد کیلئے فریقین کے درمیان نئی بات چیت ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی پارلیمنٹ کے منظورشدہ قانون کے تحت آئی اے ای اے کے ساتھ تمام تعاون معطل ہے اورتعاون کی بحالی کا انحصار جوہری تنصیبات اورعملے کے تحفظ کی یقین دہانی پرہوگا۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ ذمہ دارریاست کی حیثیت سے تکنیکی روابط برقراررکھنا چاہتا ہے تاہم اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
