لاہور: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سب سے معروف اور جذباتی سپورٹر عبدالجلیل عرف “چاچا کرکٹ” نے رواں برس ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ وہ لاہور میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلے جانے والے تیسرے اور آخری ون ڈے میچ کے دوران اسٹیڈیم میں قومی ٹیم کی آخری بار براہ راست سپورٹ کریں گے۔
“چاچا کرکٹ” کے نام سے شہرت پانے والے 77 سالہ عبدالجلیل نے 1968 میں لاہور میں انگلینڈ کے دورہ پاکستان کے موقع پر پہلی بار اسٹیڈیم میں بیٹھ کر کرکٹ میچ دیکھا تھا۔ بعد ازاں 1980 اور 1990 کی دہائی میں شارجہ اسٹیڈیم میں ان کی موجودگی نے انہیں کرکٹ شائقین میں منفرد شناخت دلائی، جہاں ان کا سبز لباس اور جوش و خروش ان کی پہچان بن گیا۔
انہوں نے کئی دہائیوں تک پاکستان ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے دنیا بھر کا سفر کیا۔ حتیٰ کہ ملازمت چھوڑ کر اپنی زندگی کو مکمل طور پر کرکٹ کے لیے وقف کر دیا۔ 1999 کے ورلڈ کپ میں بھی وہ پاکستان ٹیم کے ساتھ موجود رہے۔
چاچا کرکٹ کا کہنا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے آبائی شہر سیالکوٹ کے قریب ایک کرکٹ میوزیم اور ریسٹورنٹ قائم کریں، جہاں وہ اپنی یادگار اشیاء محفوظ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا ہدف پاکستان کے 500 میچز میں ٹیم کو سپورٹ کرنا تھا جو انہوں نے حاصل کر لیا ہے۔ وہ ہمیشہ پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
ماضی کے یادگار لمحات میں انہوں نے 1986 شارجہ کا وہ تاریخی میچ بھی یاد کیا جب جاوید میانداد نے آخری گیند پر چھکا لگا کر پاکستان کو فتح دلائی تھی، جبکہ 2017 چیمپئنز ٹرافی فائنل میں بھارت کے خلاف کامیابی کو بھی وہ اپنی بڑی خوشی قرار دیتے ہیں۔
اگرچہ کچھ شکستیں، خصوصاً 2011 ورلڈ کپ سیمی فائنل اور 2024 ٹی20 ورلڈ کپ کا میچ، ان کے لیے تکلیف دہ یادیں ہیں۔ تاہم وہ اب بھی پرامید ہیں کہ پاکستان کرکٹ ٹیم دوبارہ عروج حاصل کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: وسیم اکرم کی جمرات میں شیطان کو کنکریاں مارتے ویڈیو وائرل
چاچا کرکٹ نے اپنے مخصوص انداز میں کہا:“ہوتا ہے بھائی ہوتا ہے، کھیل میں ایسا ہوتا ہے۔ کبھی آگے کبھی پیچھے، کبھی خوشی کبھی غم۔”
