حکومت 5 فیصد بھی اپنے اخراجات کم کر لیتی تو نئے ٹیکس نہ لگانے پڑتے، مفتاح اسماعیل

Miftah Ismail

فائل فوٹو


اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت اگر 5 فیصد بھی اپنے اخراجات کم کر لیتی تو نئے ٹیکس لگانے کی ضرورت نہ پڑتی۔

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ تنخواہ دار طبقے سے بجٹ میں زیادتی ہوئی ہے۔ اگر ملک خطرے میں ہے تو پھر ضرور تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس لیں۔ ایک طرف وزیر اعظم نے کہا ملک خطرے میں ہے کمر کسنی پڑے گی۔ لیکن صرف تنخواہ دار طبقے نے تو ملک کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا۔

انہوں نے کہا کہ زراعت پر ٹیکس نہیں لگائیں گے یہ انصاف نہیں۔ بجٹ میں بچوں کے دودھ، کتابوں پر ٹیکس لگایا گیا ہے۔ حکومت نے پی ایس ڈی پی اور اے ڈی پی کو 30 ،30 فیصد بڑھا دیا ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت نے کسی جگہ پر بھی اپنے اخراجات کم نہیں کیے۔ حکومت چلانے کا خرچہ اس وقت 30 کھرب ہے اور اس وقت 30 کھرب روپے ہماری 25 فیصد آمدن کا حصہ ہے۔ اگر حکومت 5 فیصد اپنے اخراجات کم کر لیتی تو نئے ٹیکس لگانے کی ضرورت نہ پڑتی۔

انہوں نے کہا کہ محتاط اندازے کے مطابق 500 ارب روپے ارکان اسمبلی کو دیئے گئے ہیں۔ عطا تارڑ پنجاب سے پتہ کرلیں کہ ہر رکن صوبائی اسمبلی کو ایک ایک ارب روپے دیئے ہیں کہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت زراعت اور جائیداد پر بھی ٹیکس لگائے گی، وزیر خزانہ

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر تنخواہ دار اور تاجر پر ٹیکس لگانا ضروری ہے تو حکومت اپنے خرچے بھی کم کرے۔ حکومت نے پاکستان کے دو حصے کر دیئے ہیں ایک مراعات یافتہ طبقہ دوسرا ٹیکس دینے والا طبقہ۔ معیشت چلے گی یا بجٹ چلے گا اور 4 ماہ میں حکومت کو کچھ ٹیکس واپس لینے پڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ پر سپر ٹیکس لگانا فہم سے باہر ہے۔ ہم انڈونیشیا، نائیجریا، ملائشیا، جنوبی افریقہ اور تھائی لینڈ سے مہنگے ہیں۔ ہم برآمدات کے حوالے سے کس سے مقابلہ کر رہے ہیں ؟


متعلقہ خبریں