بلوچستان اور لیاری کے بعد فٹ بال ملک بھر میں مقبول

فٹ بال

بلوچستان اور لیاری کے بعد فٹ بال کا کھیل ملک بھر میں مقبول ہو گیا۔

پاکستان میں فٹبال کا بڑھتا رجحان ملک میں فٹبال کے فروغ کی عکاسی کرتا ہے، جناح اسٹیڈیم اسلام آباد میں ہونے والے فیفا کوالیفائر میچز میں ہزاروں کی تعداد میں شائقین فٹ بال کا میچ دیکھنے اور سپورٹ کیلئے پہنچے۔

پاکستان میں فٹبال کے کھیل کو لیاری کے کھلاڑیوں نے نمایاں کیا، کئی سالوں تک پاکستان میں فٹبال بلوچستان اور لیاری سمیت چند علاقوں تک محدود رہی،پاکستان میں 1948 سے 2003 تک نیشنل چیمپئن شِپ کا انعقاد ہوتا تھا۔2003 کے بعد پاکستان پریمئیر لیگ کا سلسلہ بھی شروع ہوا تاہم پروفیشنل فٹبال کلب نہ ہونے کے باعث فٹبال کیلئے معیاری کوچنگ اور سٹاف نہیں تھا۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، بھارت اور جنوبی افریقا کے درمیان فائنل آج ہوگا

جیسے جیسے فٹبال کو عالمی سطح پر مقبولیت ملی، پاکستان میں یہ کھیل اپنی ساکھ کھوتا رہا، اس اس کی بڑی وجہ فٹ بال کی طرف انتظامیہ کی عدم توجہ تھی، پاکستان میں چلنے والا ڈیپارٹمنٹل سسٹم دیگر ممالک 1960 کے بعد ختم کر چکے ہیں۔

شوق کا عالم یہ ہے کہ بلوچستان کے شہر چمن میں آج بھی مقامی سطح پر ہونے والے فٹبال میچ میں ہزاروں افراد شریک ہوتے ہیں۔دوسری جانب عالمی مقابلوں کے لیے فٹبال بنانے والا پاکستان انٹرنیشنل فٹ بال سے باہر رہا، فیفا نے پہلے 2017 پھر 2021 میں پاکستان فٹ بال فیڈریشن پر پابندی لگائی۔

2022 میں پاکستان سے پابندی ہٹنے کے بعد پاکستان کا نیپال سے میچ ہوا جس سے پاکستان کی انٹرنیشنل فٹ بال میں واپسی ہوئی اور پاکستان نے تاریخ میں پہلی مرتبہ فیفا ورلڈ کپ کوالیفائر کے راؤنڈ ٹو تک رسائی حاصل کی، اب پاکستان کے لیے بڑا مرحلہ ورلڈ کپ کوالیفائر 2026 ہے۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار ایک ایڈیشن میں 500 چھکے مارنے کا ریکارڈ

فٹبال ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں فٹبال پر سرمایہ کاری اور پاکستان فٹبال کی لیگ بنانا ہوگی، فٹبال کوچ سٹیفن کونسٹنٹین کے مطابق پاکستان فیفا ورلڈ کپ کے کوالیفائر راؤنڈ تھری تک پہنچنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ فٹبال کے ٹیلنٹ کو مزید نکھارا جائے جس کے لیے باقاعدہ کوچنگ سنٹر بنائے جانے چاہئیں۔دبئی بیس فٹبال کلب ٹی ایف اے ہر سال پاکستان میں مفت ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کا انعقاد کرتا ہے اور اچھے کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل کلبز میں کھیلنے کے مواقع فراہم کرتا ہے اس ضمن میں بین الاقوامی کلبز باقاعدہ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرامز کا انعقاد بھی کرتے ہیں اور اچھے کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل کلبز لیول کی ٹریننگ دینے اور اسکلز میں مزید مہارت کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں۔

فٹ بال کے فروغ کے لیے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرامز کا انعقاد کیا جانا چاہیے تا کہ گراس روٹ لیول سے ٹیلنٹ سامنے آئے،ڈویلپمنٹ پروگرامز پر کام کیے جانے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے اچھے کھلاڑیوں کی انٹرنیشنل کلبز تک رسائی ممکن ہو سکے۔


متعلقہ خبریں