نیوزی لینڈ کے سابق کپتان اور مایہ ناز بلے باز کین ولیمسن نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔
اس کے ساتھ ہی عالمی کرکٹ کے ایک سنہرے باب کا اختتام ہو گیا، ماہرین کرکٹ اور سابق کھلاڑی انہیں نیوزی لینڈ کی تاریخ کے عظیم ترین بلے بازوں میں شمار کرتے ہیں۔
کین ولیمسن نے 2010 میں بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا اور جلد ہی اپنی شاندار بیٹنگ، پرسکون مزاج اور قائدانہ صلاحیتوں کے باعث دنیا بھر میں پہچان حاصل کر لی۔ وہ 2010 اور 2020 کی دہائی کے معروف فیب فور بلے بازوں میں شامل رہے، جن میں ویرات کوہلی، اسٹیو اسمتھ اور جو روٹ بھی شامل ہیں۔

ولیمسن نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز بھارت کے خلاف سنچری سے کیا اور کم عمری میں نیوزی لینڈ کے تیز ترین 3000 ٹیسٹ رنز مکمل کرنے والے بلے باز بن گئے، کین ولیمسن نے اپنے بین الاقوامی کیریئر میں 19 ہزار 346 رنز اسکور کیے، جن میں 48 سنچریاں شامل ہیں۔
2019 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں ولیمسن نے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا اعزاز حاصل کیا اور نیوزی لینڈ کو مسلسل دوسری بار فائنل تک پہنچایا، اگرچہ فائنل میں انگلینڈ کے خلاف شکست ہوئی تاہم ان کے طرز عمل اور کھیل کے جذبے کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔
ان کی قیادت میں نیوزی لینڈ نے 2021 میں پہلی مرتبہ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ جیت کر تاریخ رقم کی، اسی سال کیوی ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل تک بھی پہنچی۔
آئی پی ایل میں بھی کین ولیمسن نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، 2018 میں سن رائزرز حیدرآباد کی قیادت کرتے ہوئے 735 رنز بنا کر اورنج کیپ حاصل کی اور ٹیم کو فائنل تک پہنچایا، وہ آئی پی ایل کی تاریخ میں اورنج کیپ جیتنے والے پہلے نیوزی لینڈ کے کھلاڑی بنے۔
بنگلا دیش کی آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں تاریخی فتح
کین ولیمسن کو نہ صرف ایک عظیم بلے باز بلکہ ایک مثالی کپتان، بہترین فیلڈر اور کھیل کے حقیقی سفیر کے طور پر یاد رکھا جائے گا، ان کی ریٹائرمنٹ عالمی کرکٹ کے ایک یادگار دور کے خاتمے کے مترادف ہے۔
